تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 57 of 144

تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین — Page 57

۵۷ ابطال الوہیت مسیح خلاصہ سے جو سیال اور کمزور ہے۔پھر ٹھیک درست کیا اس کو اور پھونک دی اس میں ایک روح جو اللہ کی طرف سے آئی اور فرمایا۔فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَ نَفَخْتُ فِيْهِ مِنْ رُوحِي فَقَعُوا لَهُ سجِدِین کے اس سجدہ عا۔پس جب ٹھیک درست کر دوں میں اس کو اور پھونک دوں اس میں اپنی روح تو اس کے لئے گر پڑیو سجدہ کرتے۔عرب کی زبان میں بھی اسی نفس اور سانس کو روح کہا گیا۔دیکھو ذو الرمة عرب کے قدیم شاعر کا قول ہے۔فَقُلْتُ لَهُ ارْفَعُهَا إِلَيْكَ وَ أَحْيِهَا بِرُوْحِكَ وَاجْعَلْهُ لَهَا قِيْتَةً قِدْرًا پس میں نے اسے کہہ دیا (اپنے ساتھ والے کو کہا ) اس آگ کو اپنے منہ کی طرف اُٹھا لے۔اور اسے روشن و زندہ کر اپنی پھونک سے اور اپنی پھونک کو اس آگ کی واسطے لکڑیاں بنا ہانڈی کی خاطر۔تاج العروس شرح قاموس اللغة میں یہ شعر ذو الرمة کا موجود ہے۔دیکھو مادہ ، روح اور اسی روح کے معنے کلام الہی وغیرہ وغیرہ لکھ کر کہا ہے سمعت ابا الهيثم يقول الروح انما هو النفس الذى يتنفسه الانسان وهو جار في جميع الجسد فاذا خرج لم يتنفس بعد خروجه فاذا تم خروجه بقى بصره شاخصًا۔نحوه حتى يغمض وهو بالفارسية جان يذكر ويؤنث) انتهى۔میں نے ابوالہیثم سے سنا فرماتے تھے روح تو آدمی کی سانس ہی ہے اور وہ تمام بدن میں چلتی ہے اور جب نکل جاوے تو آدمی سانس نہیں لے سکتا اور جب پوری نکل جاوے تو آنکھیں اسی طرف کھلی رہ جاتی ہیں جب تک بند نہ کی جاویں اسی کو فارسی زبان میں جان کہتے ہیں۔مذکر کا لفظ ہے ( اور مؤنث بھی بولا جاتا ہے )۔غالباً الروح عام جاندار کو اسی واسطے کہا ہے جہاں کہا ہے لا تتخذوا شيئًا فيه الروح غرضا * بلكه مقدسه كتب میں بھی روح وسیع معنی رکھتا ہے۔ہاں الہی روح مقدسہ کتب میں وسیع معنی رکھتا ہے۔چند ایسے معنی سنو جو اس مقام کے مناسب ہیں۔اس ہوا کے معنے جو پانی پر چلتی ہے۔”زمین ویران اور سنسان تھی اور گہرایوں کے اوپر اندھیرا تھا اور خدا کی روح پانیوں پر جنبش کرتی تھی ، پیدائش اباب ۲۔اس سانس کے معنی جس الحجر : ۳۰ حمل بعض احادیث میں آیا ہے جاندار چیز کونشانہ مت بنایا کرو۔۲۵