تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین — Page 56
ابطال الوہیت مسیح ۵۶ مستحق۔پس اس کے فرمانبردار بنے رہو۔(۳) يَتَلُونَكَ عَنِ الرُّوْحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أمْرِ رَبّى وَمَا أُوتِيْتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا سورۃ بنی اسرائیل ع۱۰ پ ۱۵۔لوگ تجھ سے پوچھتے ہیں کہ یہ قرآن کیا چیز ہے۔تو کہہ دے قرآن روح ہے تیرے رب کی طرف سے اور تم لوگ تو کم علم ہو ( کہ ایسی صریح بات نہیں سمجھتے ) دوسرا محاورہ روح ، جبرائیل کو کہا ہے کیونکہ وہ کلام الہی کے لانے والے ہیں جیسے فرمایا (1) نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ عَلَى قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنْذِرِينَ کے سورۃ شعراء ع ا اپ ۱۹۔روح الامین (جبرائیل ) اس قرآن کو تیرے دل پر لایا ہے تا کہ تو نافرمانوں کو ان کی نافرمانی پر ڈرانے والا ہو۔(۲) فَاتَّخَذَتْ مِنْ دُونِهِمْ حِجَابًا فَأَرْسَلْنَا إِلَيْهَا رُوحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا - قَالَتْ إِنِّي أَعُوْذُ بِالرَّحْمَنِ مِنْكَ إِنْ كُنْتَ تَقِيًّا - قَالَ إِنَّمَا أَنَ رَسُولُ رَبَّكِ لِأَهَبَ لَكِ غُلَمًا زكيا سے سورہ مریم ع۳ پ ۱۳۔پس بنا لیا مریم نے اپنے اور لوگوں کے درمیان ایک پردہ۔تو بھیج دیا ہم نے (اللہ فرماتا ہے ) اس کی طرف اپنا روح تب بن گیا وہ روح ہمارا مریم کے سامنے پورے آدمی کی شکل پر۔تب مریم نے کہا میں الرحمن سے تیرے مقابلہ میں حمایت چاہتی ہوں۔اگر تو ہو خدا کا خوف کرنے والا۔(اسے خدا کی روح جبرائیل فرشتہ نے کہا ) میں تو صرف تیرے رب کا بھیجا ہوا ہوں اور اس لئے آیا کہ تجھے ایک اچھا بچہ دے جاؤں۔( یہ فرشتہ بشارت دینے کو آیا تھا) قُلْ نَزَّلَهُ رُوحُ الْقُدُسِ مِنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ : سورہ نحل ع۱۳ پ ۱۴۔تو کہہ دے (اس قرآن کو ) روح القدس (جبرائیل ) تیرے رب کی طرف سے آہستہ آہستہ لایا ہے اور یہ قرآن کامل راستبازی کے ساتھ ہے۔حضرت مسیح علیہ السلام چونکہ کلام الہی کے لانے والے اور کلام الہی بندوں کو سمجھانے والے تھے ان کو بھی روح فرمایا جیسے فرمایا: وَكَلِمَتُهُ الْقُهَا إِلَى مَرْيَمَ وَرُوح منه۔اور مسیح الہی کلمہ ہے اس پاک کلام الہی اور بشارت خداوندی کا ظہور ہے جو جبرائیل لائے تھے ) جو پہنچا مریم کی طرف اور اسی کی طرف سے وہ روح ہے۔انسانی سانس کو بھی قرآن کریم نے روح فرمایا ہے جیسے کہا ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهُ مِنْ سُلْلَةٍ مِنْ مَّادِ مَّهِينٍ ثُمَّ سَقْبِهُ وَنَفَخَ فِيْهِ مِنْ رُّوحِهِ۔پھر بنائی اولاد آدم کی ایک ایسے النحل : ٢٣ الشعراء : ۱۹۴، ۱۹۵ ۳ مریم : ۱۸ تا ۲۲۰ النحل : ۱۰۳ ۵ النساء : ۱۷۲ السجدة : ١٠٩ ۲۴