تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 54 of 144

تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین — Page 54

۵۴ ابطال الوہیت مسیح مقابلہ میں اگر تو خدا کا خوف کرنے والا ہو۔کہا ( اُسے خدا کی روح جبرائیل نے ) میں تو صرف تیرے رب کا بھیجا ہوا فرشتہ ہوں اور اس لئے آیا ہوں کہ تجھے ایک اچھا بچہ دے جاؤں (اس کی بشارت سے مراد ہے) بلکہ چاہئے کہ حضرت سید نا آدم علیہ السلام کی سانس بھی جس کی نسبت خدا نے روحی فرمایا ہے خدا ہو۔فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيْهِ مِنْ رُّوحِي فَقَعُوا لَهُ سجدين لس ۱۴۔اس حجر ع ۴۔پس جب میں اسے ( آدم کو ) ٹھیک درست کر دوں اور اس میں اپنی روح (سانس) پھونک دوں تو اس کے لئے گر پڑیو سجدہ کرتے۔بلکہ سب آدمیوں کی ارواح خدا ہوں۔کیونکہ قرآن مجید میں نسل آدم کی نسبت آیا ہے کہ ان کی روح خدا کی روح ہے۔ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهُ مِنْ سُلْلَةٍ مِنْ مَّاءٍ مَّهِينٍ ثُمَّ سَؤْهُ وَنَفَخَ فِيْهِ مِنْ رُوحِه ل س ۳۲ س السجدة رکوع ۱۔پھر بنائی اولاد آدم کی ایسے خلاصہ سے جو سیال اور کمزور ہے پھر ٹھیک درست کیا اور پھونک دی اس میں ایک روح جو اللہ کی طرف سے آئی۔اصل بات یہ ہے کہ جب کوئی کلام کسی شخص کے منہ سے کسی کو سنانے کے واسطے نکلتا ہے تو اس وقت ایک شخص اس کلام کا سنانے والا ہوا کرتا ہے اور دوسرا اُس کلام کا سنے والا بولنے والا اپنے کلام کے ایک معنی رکھتا ہے اور اُس کلام میں اس کی ایک معہو د غرض ہے۔وہ اسی معنے اور غرض کے واسطے اُس کلام کو بولتا ہے مگر سننے والا غالباً اُس کلام کے معنی اور مطلب کو ایسے مذاق و اعتقاد پر ڈھالا کرتا ہے جو معنی متکلم کے مذاق اور مشن کے مناسب نہیں ہوا کرتے۔اسی واسطے بولنے والے کو اپنے کلام کے معنی بتانے پڑتے ہیں یا لائق اور منصف سننے والوں کو اس متکلم کا مشن اور طر ز ملحوظ رکھ کر متکلم کے کلام کے معنے کرنا چاہیے۔مثلاً جب سید نا نبی عرب صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کا لفظ لا اله الا الله يا بسم اللہ میں بولا تو اللہ تعالیٰ نے ہی جس کے الہام سے آپ نے یہ کلمہ توحید کا لوگوں کو سنایا پھر آپ کو اپنے پاک الہام سے آگاہ فرمایا کہ تیرے مخاطب عیسائی ہیں جو مسیح کو خدا کا بیٹا مانتے ہیں یا عرب کے مشرک جو فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں کہتے ہیں۔اللہ کے لفظ سے یقیناً وہ ایسا اللہ سمجھیں گے جو کہ باپ ہو بیٹا ہو بیٹیاں رکھتا ہو یا تیرے مخاطب مجوسی ہوں گے جن کا یہ اعتقاد ہے کہ خداوند یزداں کا ایک دوسرا جوڑی بھی ہے جو کہ شر کا خالق ہے اور جسے اہرمن کہتے ہیں الحجر : ٣٠ السجدة : ١٠٩ ۲۲