تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین — Page 53
۵۳ ابطال الوہیت مسیح ہونے کو ثابت کرنے بیٹھے ہیں۔قرآن مجید کی ان آیات میں سے جن میں حضرت مسیح علیہ السلام کے خدا ہونے کا ابطال و انکار کیا گیا ہے یہ تین آیتیں سن رکھو۔لَقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ هُوَ المَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ لَقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللهَ ثَالِثُ ثَلَثَةِ - مَا المُسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ إِلَّا رَسُولٌ۔ہاں ان عجیب و غریب دماغ والے عیسائیوں نے قرآن کریم کی آیات ذیل سے حضرت مسیح علیہ السلام کی الوہیت پر استدلال کیا ہے۔پہلی آیت وَمَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرَنَ الَّتِى اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيْهِ مِنْ رُّوحِنَا سورۃ تحریم آیت نمبر ۱۲۔دوسری آیت إِنَّمَا الْمُسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ رَسُوْلُ اللَّهِ وَكَلِمَتُهُ الْقُهَا إلى مَرْيَمَ وَرُوحُ مِنْهُ ۵ سورۃ النساء نمبر ۱۷۱ - ۲۲۶۔پ۔عیسائیوں کا ثبوت ان آیات میں حسب تسلیم اہل اسلام کے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح علیہ السلام کو اپنی روح فرمایا ہے اور اللہ تعالیٰ کی روح اللہ تعالیٰ سے کم نہیں بلکہ عین خدا ہے۔الجواب:۔عیسائیو! اگر ایسے دلائل سے کام چلاناہے تو پھر یوں کہو کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام بھی خدا ہیں ( معاذ اللہ ) کیونکہ قرآن مجید نے حضرت جبرائیل کی نسبت بھی اسی طرح روحنا ( ہماری روح ) کا کلمہ بولا ہے جس طرح سوال کی پہلی آیت میں حضرت سیدنا مسیح علیہ السلام کی نسبت روحنا فرمایا۔غور کرو اس آیت پر فَاتَّخَذَتْ مِنْ دُونِهِمْ حِجَابًا فَأَرْسَلْنَا إِلَيْهَا رُوحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا ل س ١٦ - اس مریم رکوع ۲۔پس بنا لیا مریم نے اپنے اور لوگوں کے درمیان ایک پردہ تو بھیج دیا ہم نے (اللہ فرماتا ہے ) اسی کی طرف اپنے روح کو تب بن گئی وہ روح ہمارا مریم کے سامنے پورے آدمی کی شکل پر۔اگر اس میں کسی کو وہم پڑے کہ یہاں بھی حضرت مسیح مراد ہیں تو اس کے ساتھ کی اور دو آیتیں پڑھ لے۔قَالَتْ إِنِّي أَعُوذُ بِالرَّحْمَنِ مِنْكَ إِنْ كُنْتَ تَقِيَّا قَالَ إِنَّمَا أَنَارَسُوْلُ رَبِّكِ لِأَهَبَ لَكِ غُلَمًا زکیا کس ۱۶۔س مریم - ع ۲۔تب کہا مریم نے میں الرحمن کی حمایت چاہتی ہوں تیرے المائده: ۱۸ المائده: ۷۴ النساء : ۱۷۲ مریم : ۱۸ المائدہ: ۷۶ ک مریم : ۲۰،۱۹ التحريم : ١٣ ۲۱