تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین — Page 5
ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ بَلْ هُوَ أَيْتُ بَيْنَتُ فِي صُدُورِ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ (العنكبوت:۵۰) چند روز ہوئے کہ ایک عیسائی صاحب مسمی عبداللہ جیمز نے چند سوال اسلام کی نسبت بطلب جواب انجمن میں ارسال فرمائے تھے چنانچہ اُن کے جواب اس انجمن کے تین معزز و مقتدر معاونین نے تحریر فرمائے ہیں جو بعد مشکوری تمام بصورت رسالہ ہذا شائع کئے جاتے ہیں۔سوالات اوّل۔محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی نبوت اور قرآن مجید کے کلام اللہ ہونے پر متشکی ہونا جیسا سورۃ بقر اور سورہ انعام میں درج ہے فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِينَ (البقرة: ۱۳۸۔الانعام : ۱۱۵) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دل میں یقین جانتے تھے کہ وہ پیغمبر خدا نہیں اگر وہ پیغمبر خدا ہوتے یا انہوں نے کبھی بھی کوئی معجزہ کیا ہوتا یا معراج ہوا ہوتا یا جبرئیل علیہ السلام قرآن مجید لائے ہوتے تو وہ کبھی اپنی نبوت پر متشکلی نہ ہوتے۔اُس سے ان کا قرآن مجید پر اور اپنی نبوت پر متشکی ہونا صاف صاف ثابت ہوتا ہے اور نہ وہ رسول اللہ ہیں۔دوم۔اگر محمدصلی اللہ علیہ وسلم پیغمبر ہوتے تو اس وقت کے سوالوں کے جواب میں لاچار ہوکر یہ نہ کہتے کہ خدا کو معلوم یعنی مجھ کو معلوم نہیں اور اصحاب کہف کی بابت ان کی تعداد میں غلط بیانی نہ کرتے اور یہ نہ کہتے کہ سورج چشمہ دلدل میں چھپتا ہے یا غرق ہوتا ہے حالانکہ سورج زمین سے نو کروڑ حصہ بڑا ہے وہ کس طرح دلدل میں چھپ سکتا ہے۔سوم۔مدصلی اللہ علیہ وسلم کو بی بی کوئی معجزہ نہ ملا جیسا کہ سورۂ عنکبوت میں درج ہے ( ترجمہ عربی کا ) اور کہتے ہیں کیوں نہ اتریں اس پر کچھ نشانیاں ( یعنی کوئی ایک بھی کیونکہ لا نافیہ اس