تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین — Page 44
ابطال الوہیت مسیح دیکھو منو غائب کا صیغہ۔پیدائش ۲۔۱۷۔۳۹۔۳۔۱۱۔۱۷۔۲۲۔و۲۳۔۶۔و۲۶۔۱۶۔۱۹۴۸۔احبار ۲۔۱۱۔۳۹۔۱۴۔۴۱۔۱۹و۵-۲-۳-۴ و ۶ - ۷٫۸ ۳۔۱۴۔۱۵۔۱۲۔۱۸۔و۸۔ااو ۱۵۔۱۶۔خروج ۱ - ۹و۴ - ۲۶ و ۵ - ۸ و ۱۰- ۲۶ و ۱۲- ۹ - ۱۰ - ۱۴۔۱۲ پس اس آیت کا ترجمہ ٹھیک طور پر یہ ہوا۔ہو گیا آدم یکہ ان میں سے۔کیا مطلب آدم حیوانات سے ممتاز ہوکر یکتا ہو گیا۔ربِّي شَمعون لکھتا ہے کہ خدا نے کہا دیکھو وہ یکتا ہے نیچے والوں سے جیسا میں یکتا ہوں اوپر والوں میں سے۔(ت) تیسری دلیل حضرت مسیح علیہ السلام کے خدایا خدا کا بیٹا ہونے پر ابن اللہ کا لفظ ہے جو حضرت مسیح کے حق میں الہی الہام میں بولا گیا۔عیسائی کہتے ہیں جو ابن اللہ ہو گا وہ باپ سے ذات میں ضرور متحد ہو گا۔جواب :۔ذیل کے محاورات سے صاف صاف ظاہر ہے کہ ابن اور ابن اللہ کا لفظ توریت اور انجیل اور دونوں کے ضمیموں میں نہایت ہی وسیع معنے رکھتا ہے۔لفظ ابن کے محاورات دیکھنے ہوں تو دیکھو۔متی ۲۳ باب ۳۷ یہودی یروشلم کے بیٹے ہیں لوقا ۱۹ باب ۴۴۔یہود یروشلم کے لڑکے ہیں لوقا ۲۰ باب ۳۶۔لوگ قیامہ کے بیٹے ہیں۔اتسنیقیون ۵ باب ۵ تم نور کے بیٹے دن کے پتر ہو یوحنا ۸ باب ۴۴۔بُرے شیطان کے بیٹے ہو یوحنا ۱۷ باب۱۲۔ہلاکت کے فرزند۔متی ۲۳ باب ۲۳ یهودی سانپ کے بچے ہیں۔جس طرح ان مقامات میں ابن کا لفظ صرف خاص تعلق اور مناسبت کے واسطے بولا گیا اسی طرح ابن اللہ کا لفظ کیوں نہیں لیا جاتا۔اب ہم اُن محاورات کو لکھتے ہیں ہیں جن میں ابن اللہ کا خاص کلمہ وسیع ہاں نہایت ہی وسیع معنوں میں مقدسہ کتب نے لیا ہے۔ا۔آدم علیہ السلام خدا کے بیٹے لوقا ۳ باب ۳۸۔۲ - شیث علیہ السلام خدا کے بیٹے پیدائش ۶ باب ۲۔۳ اسرائیل علیہ السلام خدا کے بیٹے خروج ۴ باب ۲۲۔۴۔افرائیم خدا کا پہلوٹھا بیٹا پر میاہ ۳۱ باب ۲۰۰۹۔ان کے لئے خدا کی انتڑیاں مروڑی گئیں۔سہو کتابت ہے درست تسلنیقیون “ ہے۔(ناشر) ۱۲