تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 40 of 144

تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین — Page 40

۴۰ ابطال الوہیت مسیح کے ولد اور ا بن پر اگر ہم نگاہ کریں کہ دو کے میل سے تیسرا پیدا ہو جاوے تو ظاہر ہے کہ قانون کے نظارہ میں بیٹے کا باپ سے پیدا ہونا یوں ہوا کرتا ہے کہ دو یعنی نر و مادہ باہم ملیں اور جنین بنے۔اب اس تمہید کے بعد گزارش ہے۔غور کر و قرآن کریم کس طرح حضرت مسیح و غیرہ بزرگان کو خدا کے بیٹا کہنے پر ملزم ظہراتا ہے۔آتى يَكُونُ لَهُ وَلَدٌ وَ لَمْ تَكُنْ لَّهُ صَاحِبَةٌ کیا معنی۔نادانو ! کسی کو خدا کا بیٹا ماننے والو! اگر یہ لوگ جن کو تم بیٹا کہتے ہو الہی مخلوق ہیں تو کوئی مقام بحث نہیں اور اگر خدا کے ٹکڑے ہیں تو اس کے تم قائل نہیں۔توالد کا اعتقاد اور کسی کے بیٹا کہنے کا مدار تو قانون قدرت کے نظارہ میں اس بات پر موقوف ہے کہ دو چیزیں آپس میں ملیں اور اُن سے تیسری چیز پیدا ہو جاوے۔تم نے صرف اللہ تعالیٰ سے بدوں اس کے صاحبہ ماننے کے حضرت مسیح کو خدا کا بیٹا کیسے مان لیا۔عیسائی مانتے ہیں کہ ازل سے اکیلے باپ سے حضرت مسیح از لی بیٹا ہوا اور وہاں صاحبہ کوئی نہ تھی۔بدوں دوسری چیز کے ایک چیز سے توالد نہیں ہوا کرتا خلق ہوسکتا ہے۔ایک اور قرآنی دلیل ہے جو حضرت مسیح کے ابن اللہ ہونے کو باطل کرتی ہے وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے حسب تسلیم اُن لوگوں کے جو کسی بزرگ کو خدا کا بیٹا کہتے ہیں اللہ تعالیٰ ہر شے کا خالق ہے اور جو چیز خالق ہو وہ باپ اور جو بیٹا ہو اپنے باپ کی مخلوق نہیں ہوا کرتا۔کیونکہ بیٹے کا ہونا طبعی امر ہے اور قدرت اور ارادہ سے باہر ہوا کرتا ہے اور خالق ہونا اختیار اور ارادہ کا مثبت ہے۔جیسے عیسائی خود مانتے ہیں کہ بیٹا نجات کے واسطے ہوا اور اللہ تعالیٰ نے اُسے اس ارادہ سے نکالا کہ نجات ہو۔ایک اور دلیل وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ ـ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔کسی بزرگ آدمی کو خدا کا بیٹا ماننے والے اللہ تعالیٰ کو ہر شے کا عالم یقین کرتے ہیں۔ایسا کامل علم اور ایسی محیط سمجھ چاہتی ہے کہ فاعل خالق بالا رادہ ہو کیونکہ شعور و علم ہی طبعی افعال اور خلق میں امتیاز بخش ہے۔طبعی افعال میں شعور اور ارادہ نہیں ہوا کرتا ہے ان تمام دلائل کو ایک جگہ جمع کر کے قرآن فرماتا ہے۔بَدِيعُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ أَن يَكُونُ لَهُ وَلَدٌ وَ لَمْ تَكُن لَّهُ صَاحِبَةٌ وَخَلَقَ