تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین — Page 39
ابطال الوہیت مسیح ۳۹ بجواب اس سال کے کہ کتاب اعداد کے ۳۱ باب ۷ میں لکھا ہے۔انہوں نے مدیانیوں سے لڑائی کی جیسے یہواہ نے موسیٰ سے فرمایا تھا۔اور ان کے سارے مردوں کو قتل کیا۔اور قاضیوں کے ۶ باب اور ۲ باب میں ہے کہ تخمینا دو سو برس بعد اس حادثہ کے مدیانیوں نے سات برس تک سب بنی اسرائیل کو مغلوب رکھا۔پس ان دونوں میں بڑا تعارض ہے کیونکہ سب مدیانی مارے گئے تھے تو یہ قوت مدیا نیوں میں کہاں سے آ گئی اور بجواب اس سوال کے کہ (خروج ۹ باب ۶ میں ہے ) مصریوں کے سب مویشی مر گئے اور آیت ۲۰ میں ہے کہ فرعون کے نوکروں میں ہر ایک جو یہواہ کے کلام سے ڈرتا تھا اپنے نوکروں اور مویشیوں کو گھروں میں بھگا دیا۔بھلا جب سب مویشی مصریوں کے مر گئے تو فرعون کے نوکروں کے لئے مویشی کہاں سے آگئے؟ ان دونوں سوالات کے جواب میں پادری ٹھا کر داس نے اظہار عیسوی میں لکھا ہے کہ سب کچھ کا لفظ عموم محیط کے معنی نہیں دیتا۔یعنی سب کچھ کے کہنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ کوئی مدیانی بھی نہ رہا اور کوئی بھی مویشی باقی نہ رہا ہو بلکہ یہ معنی ہیں کہ اکثر مدیانی مارے گئے اور اکثر مویشی ہلاک ہوئے۔میں کہتا ہوں اگر یہ جواب درست ہے تو اسی طرح جہاں یوحنا باب ۳۔اور متنی ۱ ا باب ۲۷ نے کہا حضرت مسیح علیہ السلام سب کچھ جانتا تھا اس کے بھی یہی معنی ہیں کہ اکثر جانتے تھے عموم محیط کے معنی نہیں۔ایسے ہی یوحنا ، ا باب ۸ میں ہے۔سب جتنے مجھ سے پہلے آئے چور اور بٹمار تھے یہاں بھی سب کا لفظ عموم محیط کے معنی نہیں دیتا کیونکہ حضرت موسیٰ اور حضرت داؤ د حضرت ابراہیم اور حضرت ایوب علیہم الصلوۃ والسلام چور اور بٹ مار نہ تھے۔ایک اور طرز جو نہایت قابل غور ہے کسی چیز کا کسی چیز سے ہونا تین طرح ہوسکتا ہے اول : - خالق سے مخلوق کا ہونا کہ خالق نے اپنی کامل طاقت پوری قدرت سے ایک سے ایک چیز کو پیدا کر دیا۔ہو گئے۔دوم :- ایک چیز کے دویا کئی ٹکڑے ہو جاویں تو ہم کہہ دیں یہ ٹکڑے فلاں چیز سے پیدا سوم :- کیمیاوی طور سے دو چیزوں کے میل سے ایک تیسری چیز پیدا ہو جاوے۔اب کسی 2