تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین — Page 38
۳۸ ابطال الوہیت مسیح ہوگا کہ مسیح ذات وصفات میں خدا ہو، خدا کے برابر اور صفت معبودیت اور صفت خلق اور علم وغیرہ میں جو انسانی جسم کے لحاظ سے نہیں خدا کے سے صفات رکھتا ہو مگر ظاہر ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام میں یہ صفات کا ملہ خدا کی طرح موجود نہ تھیں۔غور کرو! پہلی صفت کا ملہ صفات میں سے علم کامل ہے۔یہ صفت بھی حضرت مسیح علیہ السلام میں پوری پوری موجود نہ تھی خود حضرت مسیح فرماتے ہیں۔مگر اس دن اور اس گھڑی کی بابت سوا باپ کے نہ تو فرشتے جو آسمان پر ہیں اور نہ بیٹا، کوئی نہیں جانتا مرقس ۱۳ باب ۳۲ و متی ۲۴ باب ۳۶ و اعمال ا باب ۷ متی ۲۶ باب ۳۸۔دوسری صفت معبود ہونا۔خود حضرت مسیح علیہ السلام نمازیں پڑھتے اور دعائیں مانگتے تھے۔کیا معنی؟ عابد تھے معبود نہ تھے۔تیسری صفت خَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ - مسیح علیہ السلام فرماتے ہیں۔دائیں بائیں بٹھا نا میرا کام نہیں مگر انہیں کو جن کے لئے میرے باپ کی طرف سے تیار کیا گیا۔متی ۲۰ باب ۲۳۔چوتھی صفت لا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ مسیح ایسے ہی مشہود دو محسوس صورت شکل والے انسان تھے جیسے اور انسان ہوتے ہیں البتہ ذرہ حسین و جمیل نہ تھے۔جس حالت میں یہ صفات کا ملہ جو اکثر جسمیت کے لحاظ سے نہیں ہوا کرتیں مسیح علیہ السلام میں نہ تھیں تو مسیح خدا کے بیٹے کیسے ہو سکیں گے۔ایک نادان عیسائی مفسر نے جس کو خواہ مخواہ بدزبانی اور دھوکا دہی کی دہت ہے اپنی تفسیر میں لکھا ہے۔کہ یوحنا ۲۱ باب ۱۷ اسے معلوم ہوتا ہے۔مسیح سب کچھ جانتا تھا۔الا جہاں کہا، میں نہیں جانتاوہ اس لئے کہا کہ اسے اس موقعہ پر اظہار مطلوب نہ تھا مگر میں کہتا ہوں اگر اظہار مطلوب نہ تھا تو جھوٹھ بولنے کی کیا ضرورت تھی۔کیوں صاف نہ فرمایا کہ یہ اس وقت اس امر کا اظہار کرنا مصلحت کے خلاف ہے۔بلکہ ٹھیک بات یہ ہے کہ سب کچھ کا لفظ کتب مقدسہ کے محاورہ پر عموم محیط کے معنی نہیں دیتا۔جیسا اظہار عیسوی کے صفحہ ۱۷۲۔اور ۱۸۲ سے ظاہر ہے۔پس یوحنا کا ۲۱ باب ۱۷ میں یہ کہنا کہ مسیح سب کچھ جانتا تھا اس امر کا مستلزم نہیں کہ محیط کے معنی رکھتا ہو۔اظہار عیسوی میں