تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 36 of 144

تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین — Page 36

۳۶ ابطال الوہیت مسیح لوازمات وصفات سے یقین کرتے ہیں۔اور نباتات کو پتھر سے الگ اسکے لوازمات وصفات سے حضرت مسیح میں انسان ہونے کے لوازمات وصفات نے حضرت مسیح کو انسان ثابت کیا اور رسالت کے لوازمات نے مثلاً موید و منصور ہونا ، اعدا کا نا کام ہونے نے رسول۔اور اس امر نے کہ الوہیت کے لوازمات مثلا غنی۔خالق ہونا وغیرہ میسج میں نہیں پائے جاتے اس واسطے وہ خدا یا خدا کے بیٹے نہیں ہو سکتے۔ان بیانات سے حضرت مسیح کی انسانیت اور مخلوقیت تو صاف عیاں ہے۔مسیح کو یا خدا یا خدا کا بیٹا ماننے والو مسیح کی خدائی کہاں سے نکل پڑی۔اگر وہ ایک مخفی اور غیب الغیب راز ہے تو ایک خیال اور وہم سے بڑھ کر اس کی کیا وقعت ہو سکتی ہے۔کوئی زبر دست اور بڑی قوی دلیل اس کے خدا بنانے میں درکار ہے کیونکہ مکلف انسان ایک ایسے مسئلہ میں جو اصول ایمان اور نجات اُخروی سے تعلق رکھتا ہے کبھی مضبوط اور غیر مذبذب اعتقاد نہیں رکھ سکتا۔جب تک کسی روشن دلیل نے اس کے دل کو مطمئن نہ کر دیا ہو۔اور اگر الوہیت مخفی اور نا گفتنی اسباب پر مبنی ہے تو ہر شخص کہہ سکتا ہے کہ میں بھی مجسم خدا ہوں۔اور تمام دنیا کی بُت پرست قوموں نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے مقدس لوگ خدائے مجسم تھے اور خدائے تعالیٰ نے باغراض مختلفہ جامہ جسمانی پہنا۔جائے غور اور انصاف ہے کہ مسیح میں کونسی خصوصیت اور ترجیح ہمیں اس بات کے یقین کرنے پر مجبور کرتی ہے کہ مسیح تو خدائے جسم تھا اور باقی اوتاروں کے مرید اپنے دعویٰ میں صادق نہ تھے قرآن کہتا ہے۔قَالُوا اتَّخَذَ الله وَلَدًا سُبْحَنَهُ هُوَ الْغَنِيُّ لَهُ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ إِنْ عِنْدَكُمْ مِنْ سُلْطَنٍ بِهَذَا اتَقُولُونَ عَلَى اللهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ ساس یونس۔ع ے۔انہوں نے کہا اللہ نے بیٹا بنا لیا ہے۔وہ پاک غنی ہے زمین و آسمان میں جو کچھ ہے اُسی کا ہے ایسی باتوں کی تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں۔کیا اللہ پر باتیں بناتے ہو جن کا تم کو علم نہیں۔مسیح علیہ السلام کو خدائے بختم ماننے والوں نے دو دعوے کیسے ہیں۔اوّل یہ کہ مسیح خدا تھے اور دوم یہ کہ مسیح انسان تھے۔کیا معنی مسیح جامع الوہیت و انسانیت تھے۔مسیح کا انسان ہونا تو حسب نشان آیت اولی وثانیہ امر مسلم ہے کیونکہ مسیح بھی رسولوں میں سے ایک رسول تھے۔اگر اُنہوں نے ا يونس: ۶۹