تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین — Page 35
۳۵ ابطال الوہیت مسیح ہیں۔بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نحمده ونصلى على رسوله الكريم مع التسليم حضرت سیدنا مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کے خدا اور خدا کا بیٹا ہونے کا ابطال اس مضمون پر لوگوں نے بہت کچھ لکھا ہے اور مسیح کے انسان رسول ہونے پر دلائل بیان کئے مگر قرآن نے نہایت ہی سیدھی اور صاف راہ اس مسئلہ میں اختیار فرمائی ہے اور کہا ہے۔مَا المَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ وَأُمُّهُ صِدِّيقَةٌ كَانَا يَأْكُلْنِ الطَّعَامَ أَنْظُرْ كَيْفَ نُبَيِّنَ لَهُمُ الْآيَتِ ثُمَّ انْظُرْانى يُؤْفَكُوْنَ س پس ماندہ ع۱۰ مسیح ابن مریم تو ایک رسول ہی ہے اس سے پہلے بھی رسول ہو گزرے ہیں اور اُس کی ما ایک نیک بخت عورت ہے دونوں کھانا کھایا کرتے۔دیکھ ان لوگوں کے لئے ہم کیونکر سچے نشان کھول کر بیان کرتے ہیں۔پھر دیکھ کہاں بہکے جاتے ہیں۔قرآن جو خالق فطرت کا کلام ہے انسان کو فطرت کے قانون پر توجہ دلاتا ہے۔نہ کسی بھول بھلیاں فلسفیانہ اور منطقیانہ دقیق اور غیر قابل فہم دلیل سے بلکہ سنن الہیہ کے روز مرہ کے مشہورہ دلائل سے سادہ طبیعت کج فہم انسانوں کو جگاتا ہے کہ مسیح اک رسول مثل اگلے رسولوں کے تھے۔اس کی ایک ما تھی۔وہ کھانا کھایا کرتے اور یہ سہ گانہ امور ایسے ہیں جن سے کوئی عیسائی بھی انکار نہیں کرسکتا اور ظاہر ہے کہ یہ عوارض اور صفات ایسے ہیں جو نوع انسان کو ہی لاحق ہوا کرتے ہیں اور یہی عوارض اور صفات ہیں جو انسان کو حوائج اور ضروریات جسمانی کی تحصیل وتحصل میں مبتلا کرتے ہیں اور یہی افتقار و نیاز اس کی مخلوق اور محتاج اور عبد ہونے پر دلالت کرتا ہے۔سچ ہے جو کھانے کا محتاج ہوا وہ ساری مخلوق کا محتاج ہوا۔اور اللہ تعالیٰ غنی مطلق ہر احتیاج سے پاک اور ہر عیب سے مبرا ہے۔غرض ایک میں احتیاج ہے اور دوسرے میں غنی۔اور ظاہر ہے کہ صفات ولوازم کے اختلاف سے ملزوم وموصوف کا اختلاف سمجھا جاتا ہے۔ہم پتھر کو نباتات سے علیحدہ پتھر کے المائدة: ۷۶