تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین — Page 23
ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات ۲۳ کہ قرآن میں یہ بھی لکھا کہ ہم نے نشان نبوت حضرت نبی عرب کو نہیں دیئے کیونکہ ایسا ماننے سے قرآن میں اختلاف ہو جائے گا اور قرآن میں اختلاف نہیں۔علاوہ بریں کسی قرآنی آیت میں یوں نہیں آیا کہ ہم نے نشانات نبوت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کونہیں دیئے۔معجزوں کے انکار پر جن آیات سے سائل اور اس کے کسی ہم خیال عیسائی اور ان کے پیرو آریہ نے استدلال کیا ہے ان آیات پر مفصل گفتگو تصدیق براہین میں دیکھو اور بقدر ضرورت یہاں عرض ہے:۔پہلے وہ آیت جس سے نبی عرب اور محسن تمام خلق صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے منکروں نے دھو کہ کھایا ہے اور جس کا ذکر بہت سننے میں آیا ہے یہ ہے:۔وَمَا مَنَعَنَا أَنْ تُرْسِلَ بِالْايْتِ إِلَّا اَنْ كَذَّبَ بِهَا الْأَوَّلُونَ (بنی اسرائیل :۲۰) اس آیت شریف سے منکرین نے یقین کیا ہے کہ حضرت نبی عرب پر معجزہ کا ظہور نہیں ہوا کیونکہ معنے اس آیت کے یہ سمجھے ہیں کہ پہلوں نے معجزات کو جھٹلایا۔اس واسطے ہم معجزات کے بھیجنے سے رک گئے مگر یہ ان کا خیال غلط ہے۔اوّل اس لئے کہ معجزات اور آیات کے وجود کا تذکرہ قرآن کریم میں بکثرت موجود ہے اور محمد صاحب صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے معجزات کے نہ مانے والوں کو اس لئے کہ بداہت اور موجودہ چیز کے منکر ہیں ظالم اور فاسق اور کافر کہا ہے اور اِلَّا کا لفظ جو مَا مَنَعَنا والی آیت میں ہے عرب کی زبان میں جن کی بولی پر قرآن کریم ہے زائد بھی آتا ہے۔دیکھوذ والرمہ کا یہ قول على الخف اونرمي بها بلداً قفراً حراجيح ماننفك الا مناخةً میرے لمبے قد کی اونٹنی ذلیل بیٹھی رہتی ہے یا اس پر دور دراز کے بے آب و گیاہ میدانوں کا سفر کرتا ہوں۔دیکھو اس تحقیق پر۔اس آیت شریف کے معنی جس کو منکرین معجزہ پیش کرتے ہیں یہ ہوئے اور نہیں منع کیا ہم کو نشانوں کے بھیجنے سے پہلوں کی تکذیب نے کم سے کم یہ آیت انکار معجزہ پر صاف اور واضح دلیل نہ رہی کیونکہ اس آیت سے معجزہ کا ثبوت نکلتا ہے ۲۳