تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 22 of 144

تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین — Page 22

ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات ۲۲ ( قرآن ) کھلی نشانیاں ہیں علم والوں کے لئے اور ہماری نشانیوں سے وہی منکر ہیں جو بڑے ظالم ہیں اور کہتے ہیں کیوں نہ اتریں اس پر نشانیاں اس کے رب سے تو کہہ نشانیاں تو اللہ پاس ہیں۔وہی بھیجتا ہے اور میں نہ ماننے والوں کو کھلا ڈر سے خبر دینے والا ہوں۔کیا اُن کو یہ نشانیاں کافی نہیں جو ہم نے اتاری تیری طرف کتاب پڑھی جاتی ان پر۔منصف عیسائیو! اگر لفظ آیت جس کے معنے نشانی کے ہیں اور لفظ آیت کی جمع لفظ آیات کے معنے معجزے کے ہیں تو قرآن کریم بہت جگہ معجزہ کو ثابت کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ محمدی معجزوں کے منکر جن کو آیہ کہا جاتا ہے کا فر ہیں فاسق ہیں اور ظالم۔غور کرو۔وَلَقَدْ أَنْزَلْنَا إِلَيْكَ أَيْتٍ بَيْتٍ وَمَا يَكْفُرُ بِهَا إِلَّا الْفُسِقُونَ (البقرة : ١٠٠) اور بے شک ضرور ہی بھیجیں ہم نے تیرے پاس کھلی نشانیاں اور اُن کا منکر کوئی نہیں مگر فاسق لوگ۔بَلْ هُوَ ايَتٌ بَيْنَتُ فِي صُدُورِ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ وَمَا يَجْحَدُ بِايَتِنَا إِلَّا الظلِمُونَ (العنکبوت: ۵۰) بے ریب کھلے نشان ہیں علم والوں کے دلوں میں اور ہمارے نشانوں سے ظالموں کے سوا کوئی بھی منکر نہیں۔ماونهُمْ جَهَنَّمُ كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنُهُمُ سَعِيرً ا لِكَ جَزَاؤُهُمْ بِأَنَّهُمْ كَفَرُوا بِأَيْتِنَا (بنی اسرائیل: ۹۹٬۹۸) عرب کے منکروں کو سورۃ بنی اسرائیل میں حکم ہوتا ہے ان لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہی ہو گا جب بجھنے لگے اس کی آگ کو زیادہ تیز کریں گے یہ اس لئے کہ ان کو بدلہ ہے اس کفر کا جو انہوں نے ہمارے نشانوں سے کیا۔یادداشت ہم پہلے سوال کے جواب میں لکھ چکے ہیں قرآن کریم میں ہرگز ہرگز اختلاف نہیں۔جب قرآن کریم نے بتادیا کہ محمد صلی اللہ علیہ کی صداقت پر ہم نے نشان بھیجے تو ایسا ہر گز ممکن نہ ہوگا ۲۲