تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 21 of 144

تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین — Page 21

ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات ۲۱ پس آیات سے کیونکر ثابت ہوا کہ حضور علیہ السلام سے کوئی معجزہ سر ز دنہ ہوا۔دوسرا جواب۔وہ کون لفظ ہے جس سے سائل کو ظاہر ہوا اور اُس نے کہا۔(اس سے صاف ظاہر ہے خدا نے کوئی معجزہ نہیں دیا) حالانکہ جو تر جمہ آیت کا سائل نے خود لکھا ہے اس میں بھی معجزے کا لفظ نہیں۔تیسرا جواب۔اگر آیت یا آیات کے لفظ سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت خاتم الانبیا سرور اصفیا کے ہاتھ پر کوئی معجزہ نہیں ہوا تو سائل صاحب غور کریں اور خوب غور کریں کیونکہ سورہ عنکبوت اور سورہ بنی اسرائیل سے جن کا حوالہ سائل نے دیا ہے معاملہ بالعکس نظر آتا ہے۔دونوں سورتیں بتا کید معجزات کے وجود کو ثابت کرتی ہیں۔اول سورۂ عنکبوت کی آیت نشان دادہ معترض کے پہلے یہ آیات ہیں۔وَكَذَلِكَ اَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَبَ فَالَّذِينَ أَتَيْنَهُمُ الْكِتَبَ يُؤْمِنُونَ بِهِ ۚ وَ مِنْ هَؤُلَاءِ مَنْ يُؤْمِنُ بِه وَمَا يَجْحَدُ بِايْتِنَا إِلَّا الْكَفِرُونَ (العنکبوت: ۴۸) ایسے ہی ہم نے اتاری تجھ پر کتاب سمجھ والے اہل کتاب تو اس پر ایمان لاتے ہیں اور مکہ والوں سے بھی کچھ اس پر ایمان لانے والے ہیں اور ہماری نشانیوں ( معجزوں) کا کافروں کے سوا کوئی منکر نہیں۔وَمَا كُنْتَ تَتْلُوْا مِنْ قَبْلِهِ مِنْ كِتَبٍ وَلَا تَخْطُهُ بِيَمِينِكَ إِذًا لَّا رْتَابَ الْمُبْطِلُوْنَ (العنكبوت : ۴۹) تو اس وقت سے پہلے لکھا پڑھا نہیں تھا ایسی بات ہوتی تو یہ جھوٹے دھوکا کھاتے۔کیا معنے اب دھو کے کے باعث منکر نہیں صرف ضد اور ہٹ اور عداوت ہے کے سبب سے منکر ہور ہے ہیں۔بَلْ هُوَ ايْتُ بَيْنَتُ فِي صُدُورِ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ وَمَا يَجْحَدُ بِايَتِنَا إِلَّا الظَّلِمُونَ وَقَالُوا لَوْلَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ أَيتُ مِنْ رَّبِّهِ قُلْ إِنَّمَا الْايْتُ عِنْدَ اللهِ وَإِنَّمَا أَنَا نَذِيرٌ مُّبِينٌ أَوَلَمْ يَكْفِهِمْ أَنَّا أَنزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَبَ يُتْلَى عَلَيْهِمُ (العنکبوت: ۵۰ تا ۵۲) بے ریب وہ ۲۱