تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 19 of 144

تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین — Page 19

ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات ۱۹ گھڑی کا وقت نہ بتانا اگر نبوت اور رسالت میں خلل انداز ہے تو حضرت مسیح کی نبوت اور رسالت بلکہ عیسائیوں کی مانی ہوئی مسیح کی الوہیت میں خلل پڑے گا۔سائل کےسوال کا دوسرا حصہ اور اصحاب کہف کی بابت ان کی تعداد میں غلط بیانی نہ کرتے۔جواب۔نہ قرآن کریم نے اصحاب کہف کی تعداد بیان فرمائی اور نہ رسول کریم نے۔معلوم نہیں ہو سکتا کہ سائل نے غلط بیانی کا اتہام کیونکر لگایا۔جب حضرت رسالت مآب نے تعداد کو بتایا ہی نہیں اور اس کا بیان ہی نہیں کیا تو غلط بیانی کہاں سے آگئی۔مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے سائل کسی کے دھو کہ میں آ کر یہ سوال کر بیٹھا ہے کیونکہ قرآن مجید میں جہاں اصحاب کہف کا قصہ لکھا ہے وہاں تعداد کے متعلق یہ آیت ہے:۔سَيَقُولُونَ ثَلَثَةٌ رَّابِعُهُمْ كَلْبُهُمْ وَيَقُولُونَ خَمْسَةٌ سَادِسُهُمْ كَلْبُهُمْ ط رَجْمًا بِالْغَيْبِ وَيَقُولُونَ سَبْعَةٌ وَثَامِنُهُمْ كَلْبُهُمْ قُلْ رَّبِي أَعْلَمُ بِعِدَّتِهِمْ مَّا يَعْلَمُهُمْ إِلَّا قَلِيلٌ (الكهف : ٢٣) ترجمہ۔لوگ کہیں گے تین ہیں چوتھا اُن کا کتا اور کہتے ہیں پانچ ہیں چھٹا اُن کا کتا ہے۔بے نشانہ تیر چلاتے ہیں اور کہتے ہیں سات ہیں اور آٹھواں کتا ہے۔تو کہہ دے (اے محمد ) میرا رب ہی اُن کی تعداد جانتا ہے اور اُن کو تھوڑے ہی جانتے ہیں۔اس آیت شریف سے صاف صاف واضح ہے کہ لوگ ایسا ایسا کہیں گے۔اور لوگ فلاں فلاں تعداد اصحاب کہف کی بیان کریں گے۔لاکن ان لوگوں کا کہنا ” بن نشانہ تیر چلانا ہے اعتبار کے قابل نہیں۔غرض حضرت نبی عرب نے کوئی تعداد اصحاب کہف کی نہیں بتائی۔۱۹