تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین — Page 18
ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات ۱۸ باقی پانچ سوال یہ ہیں جن کے جواب میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ فرمایا ہے۔میرا رب جانتا ہے:۔اوّل يَسْتَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَهَا (الاعراف: ۱۸۸) پوچھتے ہیں قیامت کی گھڑی کب ہوگی۔جواب دیا۔قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبّى تو کہہ اس کا علم میرے رب ہی کے پاس ہے۔دوسرا يَسْلُوْنَ أَيَّانَ يَوْمُ الدِّينِ (الريست: ۱۳) پوچھتے ہیں جزا کا دن کب ہوگا۔جس کا جواب کچھ نہیں دیا۔غالبا اس لئے کہ وہ ہمیشہ ہی ، یا کہ اس لئے کہ ان کی مراد قیامت سے ہے۔تیرا يَسْتَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَهَا (الشرعت : ۴۳) پوچھتے ہیں وہ گھڑی کب ہوگی۔جس کا جواب ديا: فِيمَ اَنْتَ مِنْ ذِكرتها إلى رَبَّكَ مُنْتَههَا (الشرعت : ۴۵،۴۴) تجھے ایسے قصوں سے کیا اس کا علم رب تک ہے۔چوتھا يَسْتَلْكَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَةِ (الاحزاب: ۶۴) پوچھتے ہیں اس ساعت سے۔جس کا جواب دیا: إِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللہ اس کا علم صرف اللہ کے پاس ہے۔پانچواں يَسْتَلُونَكَ كَأَنَّكَ حَفِيٌّ عَنْهَا (الاعراف: ۱۸۸) جس کا جواب دیا علمُهَا عِنْدَ اللهِ تجھ سے پوچھتے ہیں کیا تو ایسی باتوں کے پیچھے پڑا ہوا ہے اس کا علم اللہ کے پاس ہے۔لاکن اس سوال کا جواب نہ دینے سے نبوت میں کوئی نقص نہیں آتا کیونکہ حضرت مسیح فرماتے ہیں اس دن اور اس گھڑی کو میرے باپ کے سوا آسمان کے فرشتہ تک کوئی نہیں جانتا۔متی ۲۴ باب ۳۶۔اور جگہ فرماتے ہیں:۔اس دن اور اس گھڑی کی بابت سوا باپ کے نہ تو فرشتے جو آسمان پر ہیں اور نہ بیٹا کوئی نہیں جانتا ہے۔مرقس ۱۳ باب ۳۲۔سائل اور اس کے ہم خیال غور کریں اس گھڑی کی بابت حضرت مسیح کیا فتویٰ۔ایسی ۱۸