تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 17 of 144

تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین — Page 17

ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات ۱۷ بارھواں سوال۔يَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ (بنی اسرائیل: ۸۶) تجھ سے سوال کرتے ہیں قرآن کس کا بنایا ہوا ہے۔تو جواب دے مِنْ اَمرِ رَئِی یہ قرآن میرے رب کا حکم اور اسی کا کلام ہے۔یا درکھو میں نے روح کا ترجمہ قرآن کیا ہے۔اس کے کئی باعث ہیں۔اول قرآن میں خود اس وحی اور کلام الہی کو روح کہا گیا۔وَالْقُرانُ يُفَسِّرُ بَعْضُهُ بَعْضًا دیکھو وَكَذَلِكَ أَوْ حَيْنَا إِلَيْكَ رُوحًا مِنْ أَمْرِنَا (الشوری: ۵۳) اور اس طرح وحی کی ہم نے تیری طرف روح اپنے حکم سے۔دوم يَتَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ (بنی اسرائیل: ۸۶) کے ماقبل اور مابعد صرف قرآن کریم کا تذکرہ ہے ہاں ممکن ہے کہ ہم اس آیت میں روح کے معنے اُس فرشتہ کے لیں جو وحی لاتا تھا اور جس کا نام اسلامیوں میں جبرئیل ہے۔یا یوں کہیں کہ روح کے مخلوق اور غیر مخلوق ہونے کا سوال ہوا جواب دیا گیا روح حادث اور رب کے حکم سے ہوا ہے۔تیرھواں سوال - يَسْتَلُكَ أَهْلُ الْكِتَبِ (النساء: ۱۵۴) مانگتے ہیں تجھ سے یہودی اور عیسائی اہل کتاب أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتَبَّا مِنَ السَّمَاء کہ اُن پر اتار دے تو ایک کتاب آسمان سے۔یہ سوال اہل کتاب نے اس لئے کیا کہ محمدصلی صاحب ( اللہ علیہ وسلم ) نے دعوی کیا ہے کہ میں موسیٰ کی مانند نبی ہوں اور وہی ہوں جس کی بابت توریت استثنا کے ۱۸ باب ۱۸ میں پیشگوئی موجود ہے اور اس نبی کی پیش گوئی تو ریت میں اس طرح لکھی تھی:۔تجھ سا ایک بنی بر پاکروں گا اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا۔استثنا ۸ باب ۱۸۔پس لامحالہ اس نبی کے واسطے کوئی ایسی کتاب آسماں سے نہ اترے گی جولکھی لکھائی آجاوے کیونکہ توریت میں تو لکھا ہے اپنا کلام اس کے منہ میں دوں گا، پس ایسے سوال کے جواب میں فرمایا فَقَدْ سَأَلُوا مُوسَى اَكْبَرَ مِنْ ذَلِكَ فَقَالُوا آرِنَا اللَّهَ جَهْرَةً (النساء:۱۵۴)۔۱۷