تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین — Page 138
مبادى الصرف و النحو ۱۳۸ ضمائر دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک ظاہر جن کو بارِزَة کہتے ہیں جیسے اَنْعَمتَ میں تا - كَتَبْنَا میں نا اور دوسرے مُسْتَتِرَہ جیسے مَنْ يَقُولُ میں هُوَ - اور جیسے تبيّنَ لَكُمْ كَيْفَ فَعَلْنَا بِهِمْ أَى كَيْفِيَّةِ فِعْلِهِمْ۔اور أَوَلَمْ يَهْدِ لَهُمْ كَمْ أهْلَكْنَا آئی كَثْرَةُ اهْلَاكِنَا - ا فعل یا ۲۔فاعل یا ۳۔دونوں کو گا ہے حذف کر دیتے ہیں جیسے مَنْ خَلَقَ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ۔لَيَقُولُنَ الله میں اللہ فَاعِل ہے اور خَلَقَ فِعْل مَحْذُوف۔بلَغَتِ الشّراقِ میں نفس بلغت کا فاعل محذوف ہے۔اَلَسْتُ بِرَتِكُمْ قَالُوا بَلَى - آٹھواں نائب فاعل فعل مجهول اور اسم مفعول اور منسوب کا مفعول به۔ظرف۔مصدر۔اور جار مجرور۔فاعل کا قائم مقام ہو جاتا ہے بشرطیکہ متصرف اور مختص ہوں جیسے أُكْرِمَ الرَّجُلُ صِيمَ النَّهَارُ - كُتِبَ كِتَابَةٌ نُظِرَ فِي الْأَمْرِ شُبِّهَ لَهُمُ - ساتواں مبتدا۔وہ اسم ہے جسے خبر دی جاوے اور خبر وہ اسم ہے جس کے ذریعہ اطلاع دی جاوے۔مبتدا اکثر معرفہ ہوتا ہے اور خبر کبھی مفرد ہوتی ہے جیسے اللہ احد اور کبھی مرکب جیسے مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ - گا ہے جملہ فعلیہ جیسے الله لم یلد اور گا ہے جملہ اسمیہ - الْغَضْبُ آخِرُهُ نَدَم - اور جملہ شرطیہ بھی آتی ہے اللهُ اِنْ تُؤْمِنْ بِهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ يُؤْمِنَكَ اور جملہ ظرفیہ بھی خبر ہوتا ہے جیسے في السَّمَاءِ الهُ وَ فِي الْأَرْضِ الهُ یادر ہے خبر مشتق۔افراد۔تثنیہ۔جمع۔تذکیر اور تانیث میں مبتدا کے مطابق ہوتی ہے اور خبر جملہ ہو تو اس میں ضمیر مطابق مبتدا ہونا چاہیے۔۲۴