تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین — Page 137
مبادى الصرف و النحو ۱۳۷ فاعل گیارہواں سبق جس اسم کے ساتھ کسی فعل کا قیام ہو اور وہ اسم فعل کے بعد ہوا سے فاعل کہتے ہیں۔جیسے خَلَقَ اللهُ السَّبُوتِ - كَلَّمَ اللهُ مُوسَى تَكْلِيمًا خَلَقَ اور حلم فعل ہیں اور اللہ کا لفظ فاعل کہلاتا ہے۔جب فاعل ظاہر ہو تو فعل کو واحد رکھتے ہیں۔جیسے جاءَ اخْوَةٌ يُوسُفَ جب فاعل مؤنث حقیقی اور فعل سے بلا فاصلہ ہو تو فعل مؤنث ہوتا ہے۔جیسے قَالَتِ امْرَأَةُ عِمْرَانَ اور جب ا۔فاعل مؤنث غیر حقیقی ہو یا ۲۔فاعل مؤنث حقیقی اور فعل کے درمیان فاصلہ ہو تو فعل کو کبھی مؤنث اور گا ہے مذکر کر دیتے ہیں جیسے ا۔اَخَذَتِ الأَرْضُ زُخْرُفَهَا وَازْيَّنَتْ ٢۔اور مَنْ جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ اور ٣ - إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ۔یہ بات یادر ہے کہ مَصْدَرُ - اِسْمُ مَصْدَرٍ - اسْمُ فَاعِلٍ - صِفَةٌ مُشَبَّه - افعل الزيادة- اسم فعل - ظرف - جار مجرور د فعل کے قائم مقام ہو جاتے ہیں۔جیسے لَوْ لَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ مِنْ قُبْلَةِ الرَّجُلِ اِمْرَأَتَهُ الْوُضُوءُ - مُخْتَلِفٌ الْوَانُهُ - حَسْنُ وَجْهُهُ - مَا مِنْ أَيَّامٍ أَحَبُّ إِلَى اللهِ مِنْهُ الصَّوْمُ مِنْهُ فِي عَشْرَةِ ذَيْحَجَة هَيْهَاتَ هَيْهَاتَ لِمَا تُوعَدُونَ - وَمَنْ عِنْدَهُ عِلْمُ الْكِتَابِ ـ ا فِي اللَّهِ شَاةٌ بارہواں سبق آئی اور یہ بھی یادر ہے کہ آن ، آن ، ما۔اپنے ما بعد کے ساتھ ضمائر اور جملہ بھی فاعل ہوا کرتا ہے جیسے ا اَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَنْ تَخْشَعَ قُلُوبُهُم يَأْنِ فعل ہے اور آن تَخْشَعَ فاعل ہے اى خُشُوعُ قُلُو عِلمُ - قُلُوهِم ٢ - اَوَلَمْ يَكْفِهِم اَنَّا اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ الى اَنْزَلْنَا الْكِتَابَ - يَسُرُّ الْمَرْءِ مَا ذَهَبَ اللَّيَالِي ۲۳