تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 131 of 144

تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین — Page 131

۱۳۱ مبادى الصرف و النحو اور چند الفاظ اپنی بعض خصوصیات کے باعث اس قاعدہ سے مستثنی ہیں۔مثلاً الفاظ ذیل کا مضارع مَضْبُوْمُ الْعَيْنِ ہے مگر ظرف مَفْعِل بزیر عین آیا ہے۔جیسے مَسْجِدٌ۔مَنْبت مَشْرِقُ مَغْرِبْ مَجْزِرٌ مَنْسِكَ مَرْفِقٌ مَسْقِطَ مَسْكِن مَطلِعْ مَنْزِلَةٌ مَفْرِقٌ محشر - غیر ثلاثی مجرد کیا معنے۔جن افعال کے ماضی سہ حرفی سے زیادہ ہو اس کا اسم ظرف بالکل اسم مفعول کی طرح آتا ہے۔مثلاً عَسْكَرَ يُعَسْكَرُ فَهُوَ مُعَسْكَر نیز اجوف یائی کا ظرف ایسے آوے گا۔مثلاً صارَ يَصِيرُ کا ظرف مَصِيرَ ہوگا۔جہاں کوئی چیز مثلاً سبع ( درندہ کو کہتے ہیں) بہت ہوں گے اس جگہ کو مشبعة کہیں گے۔افعی (سانپ) جہاں بہت ہوں اس کو مَفْعَات کہتے ہیں۔نو واں سبق امر حاضر بنانے کا قاعدہ مضارع مخاطب کے پہلے جو تا علامت مضارع ہے اس کو دور کر دو۔پھر اس کے بعد اگر ساکن ہو تو اس حذف شدہ کے بدلہ میں تفعل کے رنگ کے مضارع میں ہمزہ مفتوح اور تفعُل کی طرح میں ہمزہ مضموم۔وَ اِلَّا ہمزہ مکسور بڑھا دو۔اور اگر متحرک رہے تو ہمزہ مت بڑھاؤ۔اور ہر حالت میں آخر کو جزم دو۔ہاں اگر آخر میں حرف علت ہو بدلہ جزم کے اسی کو گرا دو۔تُكْرِمُ تنْصُرُ تَسْتَغْفِرُ تَعْلَمُ تَفْتَحُ تحاسب تقى تَغْزُو تَرْمِی سے انْصُرُ اسْتَغْفِرُ عد حَاسِبُ ق اعْلَمُ افْتَحْ أغْرُ ارم ۱۷