تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین — Page 120
۱۲۰ مبادى الصرف و النحو حامد تعریف کرنے والا ، احمد کے معنے بہت اچھا۔۲۔جامد سے تو چونکہ کوئی لفظ بنتا ہی نہیں اس کا ذکر سر دست چھوڑ دو۔مصدر اور اسم مشتق کی کئی قسمیں ہیں۔مصدر کی اقسام فعل کی بحث میں بتائیں گے اسم مشتق کی یہ اقسام ہیں۔(الف ) اسم فاعل۔صفت مشبہ۔مبالغہ ( ب ) اسم مفعول (ج) ظرف زمان - ظرف مکان ( د ) اسم آلہ (ہ) اسم زیادت یا اسم تفضیل۔۔پھر اسم یا کسی خاص چیز کا نام ہوتا ہے یا عام نام جیسے محمدصلی اللہ علیہ وسلم ( خاص رسول کا نام ہے ) مکہ خاص شہر کا نام - رجل آدمی ، ہر آدمی کو رجل کہتے ہیں۔فرش ہر گھوڑے کو قرش کہیں گے۔پس معنوں کے لحاظ سے اسم کی دو اور قسمیں ہیں معرفہ اور نکرہ۔جب خاص شے کا نام ہو تو معرفہ کہلاتا ہے عام ہونکرہ۔سوالات (۱) بناوٹ کے لحاظ سے اسم کی کتنی قسمیں ہیں؟ (۲) جامد۔مصدر۔مشتق کی تعریف کرو اور مثال دو۔(۳) اسم مشتق کے اقسام کتنے ہیں ان کا کیا کیا نام ہے؟ معنوں کے لحاظ سے اسم کی کتنی قسمیں ہیں۔ہر ایک کی مثال دو۔چوتھا سبق واحد۔تثنیہ اور جمع ا۔اسم کبھی واحد کہلاتا یا تثنیہ اور جمع۔پس معنے میں تعداد کے لحاظ سے ایک کے معنے دے تو واحد۔دو کے معنے دے تو تثنیہ اور دو سے زیادہ کے معنے دے تو جمع کہلاتے ہیں۔جیسے رَجُلٌ (ایک مرد) رجُلانِ (دومرد) رِجَالٌ ( بہت مرد )۔۲۔تثنیہ بنانے کا عام قاعدہ یہ ہے کہ واحد کے آخر میں الف اور نون زیر والا لگانے سے تثنیہ ہو جاتا ہے۔جیسے رَجُلٌ سے رجُلانِ اور ین بھی لگاتے ہیں جیسے رَجُلَيْنِ۔