تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 71 of 144

تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین — Page 71

اے رد شخ نہیں۔مثلاً کسی شخص کے ماں باپ غلام ہوں یا مورث کے قاتل ہوں یا کافر ہوں اور ایسے وہ اقارب ہوں جو محروم الارث ہوں پس آیت مخصوص البعض ہے۔اگر یہ تر ڈر ہو کہ یہ وصیت اکثر اہل اسلام میں فرض نہیں اور یہاں کتب کا لفظ فرضیت ظاہر کرتا ہے تو اس کا ازالہ یہ ہے کہ اول تو بالمعروف کا لفظ ندب کے لئے ہے۔دوم ابن عباس۔حسن بصری مسروق طاؤس۔مسلم بن بیسار۔علاء بن زیاد کے نزدیک اس وصیت کا وجوب ثابت ہے۔اور پہلے معنے ہی کافی مان لو۔دوسری آیت: "وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ۔قيل منسوخة بقوله " فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمة ، وقيل محكمة ولا مقدرة قلت عندى وجه آخر وهو ان المعنى وعلى الذين يطيقون الطعام فدية هى طعام مسكين فاضم قبل الذكر لانه متقدمة رتبته وذكر الضمير لان المراد من الفدية هو الطعام والمراد منه صدقة الفطر عقـب الله تعالى الامر بالصيام فى هذه الأية بصدقة الفطر كما عقب الايت الثانية بتكبيرات العيد۔خلاصہ کلام یہ ہوا کہ کسی نے کہا ہے کہ یہ آیت منسوخ ہے۔آیت فمن شہد کے ساتھ اور کسی نے کہا منسوخ نہیں اور لا مقدر ہے۔یادر ہے کبیر میں لکھا ہے (الــواســع اسم لمن كان قادراً على الشيء مع الشدة والمشقة) پس لا کا مقدر کہنا نہ پڑا۔یا اس کے معنے ہیں جولوگ طعام دینے کی طاقت رکھتے ہیں فطرانہ میں ایک مسکین کا کھانا دے دیں۔فقیر کہتا ہے۔لا مقدر کرنے کی حاجت اس لئے بھی نہیں کہ باب افعال کا ہمزہ سلب کے واسطے بھی آتا ہے۔دیکھو مفلس کے معنے فلوس والا نہیں بلکہ یہ ہیں جس کے پاس فلوس نہ ہو پس یہاں يطيقون الخ کے معنے ہوئے جس میں طاقت نہ ہو روزہ کی وہ روزہ کے بدلے کھانا کھلاوے جیسے بوڑھا مرد یا بوڑھی عورت اور اس آیت کا منسوخ نہ ہونا روایت کیا ہے بخاری نے عباس سے اور حافظ ابو نصر بن مردویہ نے عطاء سے۔البقرة: ۱۸۵ البقرة : ١٨٦