تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین — Page 55
۵۵ ابطال الوہیت مسیح اور یزداں ایسا ہے جس کے ماتحت ہزاروں رب النوع آسمانی روشن ستارے کام کرتے ہیں تو کہہ دیے کہ میری مراد اللہ کے لفظ سے وہ چیز نہیں جسے تم اللہ کہتے ہو بلکہ اور چیز ہے۔جیسے فرمایا هُوَ اللهُ اَحَدَّ اللهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا اَحَدُ سورۃ اخلاص۔ناظرین! ایسا ہی روح کا لفظ تھا اس لفظ کو جب عیسائیوں نے سنا تو لگے اپنے مذاق و اعتقاد پر اس کے معنے بنانے۔مگر ان کو مناسب تھا کہ قرآن کے مذاق اور مشن کو دیکھتے اور اسی کے مطابق و مذاق پر قرآن میں روح کے معنے کرتے۔اگر ان سے اتنا نہ ہو سکا تو کم سے کم وہ اتنا تو کرتے کہ عربی زبان کے مطابق قرآنی لفظ روح کے معنے لیتے۔کیونکہ قرآن کریم عربی میں نازل ہوا۔پس ہم ان کو بتاتے ہیں کہ قرآنی لفظ روح قرآن میں کن کن معنوں پر بولا گیا ہے اور پھر بتا دیں گے کہ عربی زبان میں اس لفظ کے اور کیا معنے ہیں۔اس بیان سے بہتوں کو حیرت ہوگی کہ روح کی تحقیق میں لوگ کیسے کیسے غلطی میں پڑے ہیں اور بات کیسی صاف ہے۔سنو ! اوّل روح کا لفظ کلام الہی پر بولا گیا ہے اور اسی واسطے قرآن مجید کو روح کہا ہے۔ثبوت وَكَذَلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ رُوحَامِنُ أَمْرِنَا مَا كُنْتَ تَدْرِي مَا الْكِتَبُ وَلَا الْإِيْمَانُ ل س ۲۵ س شورای - ع ۵۔اور اسی طرح وحی کی ہم نے تیری طرف ایک روح ( قرآن ) اپنے حکم سے۔تجھے کیا خبر تھی کہ کتاب اور ایمان کیا ہوتا ہے۔(۲) يُنَزِّلُ الْمَلكَة بِالرُّوحِ مِنْ أَمْرِهِ عَلَى مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِةٍ أَنْ انْذِرُوا أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا فَاتَّقُوْنِ سے اس محل رکوع نمبر اپ نمبر ۱۴۔اُتارتا ہے فرشتے روح ( کلام الہی ) کے ساتھ اپنے حکم سے اس پر جس پر اپنے بندوں سے چاہتا ہے اور اس کلام میں حکم دیتا ہے کہ ان مشرکوں کو سنا دو کہ اللہ کے سوا دوسرا کوئی نہیں جو کاملہ صفات سے موصوف اور برائیوں سے منزہ ہواور فرمانبرداری کا۔او مخاطب ! تو کہہ دے ! اصل بات تو یہ ہے کہ خود بخود ہستی جس کا نام اللہ ہے پوجنے کے لائق فرمانبرداری کا مستحق وہ ایک ہے اپنی ذات میں یکتا صفات میں بے ہمتا ترکیب و تعدد سے پاک وہ اصل مطلب مقصود بالذات بھروسہ کے قابل ہر کمال میں بڑھا ہوا جس کے اندر نہ کچھ جاوے کہ کھانے پینے کا محتاج بنے نہ اس کے اندر سے کچھ نکلے کہ کسی کا باپ بنے پھر نہ وہ کسی کا باپ اور نہ بیٹا اس کے وجود میں اس کی بقا میں اس کی صفات میں اس کی ذات میں کوئی اُس کا ہمتا اُس کا جوڑی نہیں۔الاخلاص: ۲ تا ۵ ۲ الشورى : ۵۳ ے بنی اسرائیل : ۸۶ ۲۳