تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 144 of 144

تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین — Page 144

۱۴۴ مبادى الصرف و النحو جَالِسًا حال ہے اور منصوب۔بَاعَ الْكُتُبَ بِرَطْلٍ ذَهَبًا مِیں ذَهَبًا تمیز۔فَجَّرْنَا الْأَرْضَ عُيُونًا میں عُيُونًا تمیز ہے۔۹۔منادی مضاف جیسے يَا عِبَادَ اللهِ فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوى میں عباد اور فالق کا لفظ۔۱۰۔خبر کان - كَانَ اللهُ غَفُورًا میں غَفُورًا خبر كان منصوب ہے۔ا۔اِنَّ اللهَ غَفُورٌ۔میں اللہ اسم ان منصوب ہوتا ہے۔اسم مجرور دو جگہ ہوتا۔اوّل تا و تا و کاف و لام و، وا و مُنْذُ و مُذْ خَلا۔رُبّ۔حاشا - مِن عَدا في عَنْ عَلى حَتَّى إلى کے بعد ، دوم اضافہ کے باعث جیسے اسم الله - غَيْرِ الْمَغْضُوبِ میں پہلے کو مضاف دوسرے کو مضاف الیہ مجرور کہتے ہیں کبھی ایک لفظ اعراب دوسرے لفظ کو دیا جاتا ہے۔اوّل کو متبوع اور دوسرے کو تابع کہتے ہیں اور وہ چار ہیں۔ا عَدُوٌّ عَاقِلْ خَيْرٌ مِنْ صَدِيقٍ جَاهِلٍ میں عاقل اور جاھل نعت وصفت اور عدو و صدیق کو موصوف کہتے ہیں۔٢ -مَعْطوف - يَبْلُغُ الظَّالِبُ قُرْبَ اللهِ وَرِضْوَانَهُ بِالْإِخْلَاصِ وَاتْبَاعِ الرُّسُلِ حروف عطف۔وف أو ثُمَّ لَا لَكِن بَلْ ہیں۔توکید۔جیسے نَفْسُهُ عَيْنُهُ كُلُّهُ جَميعُهُ۔جَاءَ الْأَمِيرُ نَفْسُهُ أَوْ عَيْنُه - سَارَ الْجَيْشُ كُلُّهُ أَوْ جَمِيعُهُ - ۴- بدل - جَدَّ دَ الإِمَامُ الدِّينَ اَكْثَرَهُ وَيُتِمُّ اللهُ بَقِيَّتَهُ خِتَامَهُ