تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین — Page 104
دینیات کا پہلا رسالہ ۱۰۴ سنن نماز ا رفع یدین یعنی نماز کے شروع میں دونوں ہاتھوں کو کانوں تک اٹھانا اس طرح کہ انگوٹھا کان کی کو سے چھو جائے یا اس کے سامنے ہو اور باقی انگلیاں نہ بہت کشاہ ہوں نہ بند۔۔دونوں ہاتھ باندھ کر نماز پڑھنا اس طرح کہ ناف کے نیچے دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھ کر دائیں ہاتھ سے بائیں کو پکڑ لیں۔احادیث صحیحہ سے ہاتھوں کو سینہ پر رکھنا بھی ثابت ہے۔۔نماز کے شروع میں ثناء پڑھنا۔۴۔ثناء کے بعد تعوذ پڑھنا۔-۵۔ہر رکعت کے شروع میں بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ پڑھنا۔- اَلْحَمْدُ کے بعد آمین کہنا۔ے۔ایک رکن سے دوسرے رکن کی طرف جاتے وقت سوائے قومہ کے اللہ اکبر کہنا اس کو تکبیرات انتقالات کہتے ہیں۔رکوع میں سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ تین، پانچ ، سات بار کہنا۔۔رکوع سے کھڑے ہو کر سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ کہنا اس کو تسمیع کہتے ہیں اور مقتدی کو رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ اور تنہا نماز پڑھنے والے کو فقط تسمیع یا دونوں کہنا۔۱۰۔سجدہ میں سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَی تین ، پانچ ، سات بار کہنا۔ا۔التحیات کے بعد درود شریف پڑھنا۔۱۲۔درود شریف کے بعد کوئی دعا پڑھنا ہر شخص اپنی اپنی زبان میں دعا مانگ لے۔ے اور صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ آپ سجدہ اور رکوع میں سُبحنَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَ بِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي بھی پڑھا کرتے تھے بلکہ آخر یہی پڑھا ۱۶