365 دن (حصہ سوم) — Page 84
درس القرآن 84 درس القرآن نمبر 224 تُولِجُ اليْلَ فِي النَّهَارِ وَتُولِجُ النَّهَارِ فِى اليْلِ وَتُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَتُخْرِجُ الْمَيْتَ (آل عمران: 28) مِنَ الْحَيِّ وَ تَرْزُقُ مَنْ تَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابِ گزشتہ آیات میں یہ مضمون چل رہا ہے کہ عیسائیوں کا یہ تصور کہ روحانی سلطنت ان کو عطا کی گئی ہے کے بارہ میں فرمایا تھا کہ مالک الملک خدا ہے جس کو مناسب سمجھتا ہے یہ سلطنت عطا فرماتا ہے۔آج کی آیت میں فرماتا ہے دن اور رات کے نظام کو دیکھو، زندگی اور موت کے نظام کو دیکھو، رزق کا نظام دیکھو کیا یہ انسانی کنٹرول میں ہے؟ اگر یہ مادی نظام بھی خدا کے ہاتھ میں ہیں تو روحانی نظام تو بدرجہ اولیٰ اس بات کا سزاوار ہے وہ خدا کے ہاتھ میں ہو۔فرماتا ہے تُولِجُ الَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَتُولِجُ النَّهَارِ في اليلِ کہ تورات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اس کی تفسیر میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔” جانا چاہئے کہ خدائے تعالیٰ نے اس بات کو بڑے پر زور الفاظ سے قرآن شریف میں بیان کیا ہے کہ دنیا کی حالت میں قدیم سے ایک مد و جزر واقعہ ہے اور اسی کی طرف اشارہ ہے جو فرمایا ہے تُولِجُ اليْلَ فِي النَّهَارِ وَتُولِجُ النَّهَارِ فِي الَّيْلِ ( آل عمران :28) یعنی اے خدا کبھی تو رات کو دن میں اور کبھی دن کو رات میں داخل کرتا ہے یعنی ضلالت کے غلبہ پر ہدایت اور ہدایت کے غلبہ پر ضلالت کو پیدا کرتا ہے۔اور حقیقت اس مدوجزر کی یہ ہے کہ کبھی بامر اللہ تعالیٰ انسانوں کے دلوں میں ایک صورت انقباض اور مجبوبیت کی پیدا ہو جاتی ہے اور دنیا کی آرائشیں ان کو عزیز معلوم ہونے لگتی ہیں اور تمام ہمتیں ان کی اپنی دنیا کے درست کرنے میں اور اس کے عیش حاصل کرنے کی طرف مشغول ہو جاتی ہیں۔یہ ظلمت کا زمانہ ہے جس کے انتہائی نقطہ کی رات لیلتہ القدر کہلاتی ہے اور وہ لیلۃ القدر ہمیشہ آتی ہے مگر کامل طور پر اس وقت آئی تھی کہ جب آنحضرت صلی ال نیم کے ظہور کادن آپہنچا تھا کیونکہ اس وقت تمام دنیا پر ایسی کامل گمراہی کی تاریکی پھیل چکی تھی جس کی مانند کبھی نہیں پھیلی تھی اور نہ آئندہ کبھی پھیلے گی جب تک قیامت نہ آوے۔