365 دن (حصہ سوم) — Page 83
درس القرآن 83 درس القرآن نمبر 223 لا يُظْلَمُونَ فَكَيْفَ إِذَا جَمَعْنَهُمْ لِيَوْمٍ لَا رَيْبَ فِيهِ وَوُفِّيَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَا كَسَبَتْ وَهُمْ (آل عمران : 26) یہودی بھی اور عیسائی بھی اپنے غلط عقائد اور خلافِ شریعت اعمال کو جواز دینے کے لئے اور آخرت کی سزا سے بچنے کا بہانہ بنانے کے لئے منہ سے تو باتیں کہہ دیتے ہیں۔عیسائیوں نے کفارہ کا جھوٹا سہارا لے کر یہ سمجھ لیا تھا کہ جو چاہیں کریں اور یہودیوں کا مشہور فقرہ ہے کہ ہمیں آگ صرف چند دن چھوٹے گی مگر یہ باتیں ان کی الہامی کتابوں سے تو ثابت نہیں اگر ان کی یہ باتیں قیامت کے دن جھوٹی ثابت ہو گئیں تو اس وقت کیا کریں گے ، فرماتا ہے جب ہم اس دن جس کی آمد میں کوئی شک و شبہ نہیں انہیں جمع کریں گے تو ان کا کیا حال ہو گا اور ہر شخص نے جو کچھ کمایا ہو گا اس دن وہ اسے پورا پورا دیا جائے گا اور ان پر کچھ بھی ظلم نہ کیا جائے گا۔قُلِ اللهُم مُلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ بِيَدِكَ الْخَيْرُ إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (آل عمران : 27) فرماتا ہے یہود و نصاریٰ کا یہ دعویٰ کہ روحانی و جسمانی سلطنت ان کا حق ہے درست نہیں۔آخری کڑی تو دونوں قسم کی حکومتوں کی اللہ کے ہاتھ میں ہی ہے۔یہاں چونکہ روحانی سلطنت کے بارہ میں عیسائیوں اور اسلام کی کش مکش کا ذکر ہے اس لئے فرماتا ہے قُلِ اللهُم مُلِكَ الْمُلْكِ اے میرے اللہ سلطنت کا حقیقی مالک تو ہی ہے تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ تو جسے مناسب سمجھتا ہے سلطنت دیتا ہے وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّن تَشَاءُ اور جس سے مناسب سمجھتا ہے سلطنت لے لیتا ہے وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ اور تو جسے چاہتا ہے غلبہ دیتا ہے وَ تُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ اور تو جسے چاہتا ہے غلبہ کم کر دیتا ہے۔بِيَدِكَ الْخَيْرُ سب بھلائی تیرے ہی ہاتھ میں ہے إِنَّكَ عَلَى كُلّ شَيْءٍ قَدِیر تو یقینا ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔