365 دن (حصہ سوم)

by Other Authors

Page 35 of 200

365 دن (حصہ سوم) — Page 35

درس القرآن 35 درس القرآن نمبر 182 وَلَمَّا بَرَزُوا لِجَالُوتَ وَجُنُودِهِ قَالُوا رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَفِرِينَ فَهَزَمُوهُمْ بِإِذْنِ اللهِ وَقَتَلَ دَاوُدُ جَالُوتَ وَاللهُ اللهُ الْمُلْكَ وَالْحِكْمَةَ وَعَلَمَهُ مِمَّا يَشَاءُ وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَفَسَدَتِ الْأَرْضُ وَلَكِنَّ اللهَ ذُو فَضْلٍ عَلَى الْعَلَمِيْنَ تِلْكَ أَيْتُ اللهِ نَتْلُوهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ وَ إِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ (البقرة:251 تا253) جیسا کہ ذکر ہو چکا ہے سورۃ البقرۃ کے اس آخری حصہ میں تزکیہ کا مضمون ہے یعنی الہی جماعت کی پاکیزگی نیز عددی ترقی اور نشو و نماکا بیان ہے اور اس کے لئے امت موسوی کی تاریخ کو بطور نمونہ پیش کیا گیا ہے، فرماتا ہے کہ تھوڑی سی تعداد میں حضرت موسیٰ کے متبعین کا اپنے زمانہ کے شیطانی لشکروں سے جو جالوت یعنی تباہی اور لوٹ مار مچانے والی قوم کے لشکروں کے مقابلہ کے لئے ان کے سامنے آئے تو ان کا سب سے بڑا ہتھیار دعا تھا۔اور انہوں نے اللہ کے حضور عرض کی۔دبنا اے ہمارے رب أفرغ عَلَيْنَا صَبُرا ہمیں صبر و استقلال عطا فرماؤ شَيْتُ أَقْدَامَنَا اور ہمیں ثبات قدم عطا فر ما وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الكَفِرِينَ اور انکار کرنے والی قوم کے مقابلہ میں ہماری مدد فرما۔فَهَزَمُوهُمْ بِاِذْنِ اللہ اور انہوں نے اللہ کے حکم سے ان کو شکست دی۔یہ کوئی ایک دن کی بات نہیں تھی مسلسل جدوجہد اور قربانی کا امتحان تھا اور بالآخر حضرت داؤد کے زمانہ میں اس ہلاکت اور لوٹ مار کرنے والی قوم کو کلیۂ شکست ہو گئی۔وَقَتَلَ دَاود جالوت اور حضرت داؤد علیہ السلام نے اس قوم کا جو بائبل میں عمالقہ کے نام سے موسوم ہے قلع قمع کیا اور یہ تاریخ کا ایک زبر دست سبق ہے۔وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ اگر خدا تعالی کی مدد اس طرح لوگوں کے ایک دوسرے سے بچاؤ کا سامان نہ کرتی نَفَسَدَتِ الْأَرْضُ تو زمین کلیپ بگڑ کر رہ جاتی وَلَكِنَّ اللهَ ذُو فَضْلٍ عَلَى الْعَلَمِینَ لیکن یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جو تمام جہانوں پر ہو رہا ہے۔فرماتا ہے، یہ کوئی تاریخی قصہ یا کہانی کا بیان نہیں بلکہ تِلْكَ أَيْتُ اللَّهِ نَتْلُوهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ یہ اللہ تعالیٰ کی آیات ہیں جو ہم صحیح صحیح آپ کو پڑھ کر سناتے ہیں۔ضرورت حقہ کے مطابق آپ کو پڑھ کر سناتے ہیں کیونکہ ان میں امت محمدیہ کے لئے سبق بھی ہے اور پیشگوئیاں بھی ہیں وَ إِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ اور آپ کو رسول بنا کر بھیجا گیا ہے۔