365 دن (حصہ سوم)

by Other Authors

Page 161 of 200

365 دن (حصہ سوم) — Page 161

درس روحانی خزائن 161 درس روحانی خزائن نمبر 94 حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیان فرماتے ہیں:۔اللہ تعالیٰ کی معرفت کے حصول کے ذرائع اب اگر یہ سوال ہو کہ پھر اس درجہ کے حصول کے لئے کیا کیا جائے؟ اور قرآن کریم نے اس درجہ پر پہنچنے کا کیا ذریعہ بتایا ہے ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے دوباتیں اس کے لئے بطور اُصول کے رکھی ہیں۔اول یہ کہ دُعا کرو۔یہ سچی بات ہے۔خُلِقَ الْإِنْسَانُ ضَعِيفًا (النساء : 29) انسان کمزور مخلوق ہے۔وہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور کرم کے بدوں کچھ بھی نہیں کر سکتا۔اس کا وجو د اور اس کی پرورش اور بقاء کے سامان سب کے سب اللہ تعالیٰ کے فضل پر موقوف ہیں۔احمق ہے وہ انسان جو اپنی عقل و دانش یا اپنے مال و دولت پر ناز کرتا ہے، کیونکہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی کا عطیہ ہے۔وہ کہاں سے لایا؟ اور دعا کے لئے یہ ضروری بات ہے کہ انسان اپنے ضعف اور کمزوری کا پورا خیال اور تصور کرے۔جوں جوں وہ اپنی کمزوری پر غور کرے گا۔اسی قدر اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی مدد کا محتاج پائے گا۔اور اس طرح پر دُعا کے لئے اس کے اندر ایک جوش پیدا ہو گا۔جیسے انسان جب مصیبت میں مبتلا ہوتا ہے اور دُکھ یا تنگی محسوس کرتا ہے، تو بڑے زور کے ساتھ پکارتا اور چلاتا ہے اور دوسرے سے مددمانگتا ہے۔اسی طرح اگر وہ اپنی کمزوریوں اور لغزشوں پر غور کرے گا اور اپنے آپ کو ہر آن اللہ تعالیٰ کی مدد کا محتاج پائے گا، تو اس کی روح پورے جوش اور درد سے بے قرار ہو کر آستانہ الوہیت پر گرے گی اور چلائے گی اور یارب یارب کہہ کر پکارے گی۔غور سے قرآن کریم کو دیکھو تو تمہیں معلوم ہو گا کہ پہلی ہی سورت میں اللہ تعالیٰ نے دعا کی تعلیم دی ہے اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ (الفاتحہ :7،6) دُعاتب ہی جامع ہو سکتی ہے کہ وہ تمام منافع اور مفاد کو اپنے اندر رکھتی ہو اور تمام نقصانوں اور مضرتوں سے بچاتی ہو۔پس اس دعا میں بہترین منافع جو ہو سکتے ہیں اور ممکن ہیں وہ اس دعا میں مطلوب ہیں اور بڑی سے بڑی نقصان رساں چیز جو انسان کو ہلاک کر دیتی ہے۔اُس سے بچنے کی دُعا ہے۔“ ( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 274،273 مطبوعہ ربوہ) مشکل الفاظ اور ان کے معافی لغزشوں کمزوریوں مضرتوں نقصانوں