365 دن (حصہ سوم)

by Other Authors

Page 88 of 200

365 دن (حصہ سوم) — Page 88

درس القرآن 88 القرآن نمبر 227 قُلْ اِنْ تُخْفُوا مَا فِي صُدُورِكُمْ أَوْ تُبْدُوهُ يَعْلَمُهُ اللهُ وَيَعْلَمُ مَا فِي السَّمَواتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَاللهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرُ يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَا عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُحْضَرَ وَ مَا عَمِلَتْ مِنْ سُوْءٍ تَوَدُّ لَوْ آنَ بَيْنَهَا وَبَيْنَهُ أَمَدًا بَعِيدً اوَيُحَةِ رُكُمُ اللهُ نَفْسَهُ وَاللَّهُ رَءُوفٌ بِالْعِبَادِ ( آل عمران : 31،30) اسلام و عیسائیت کی کش مکش کا صرف ظاہر سے تعلق نہیں بلکہ بنیادی طور پر تو مذہب کا تعلق ہی دل کی گہرائیوں سے ہے۔اس مضمون کو بیان کرتے ہوئے کہ مسلمانوں اور عیسائیوں کی کش مکش میں مسلمانوں کو خدا کے خوف سے کام کرنا چاہیئے، فرماتا ہے قُل اِنْ تُخْفُوا مَا فِي صُدُورِكُمْ اَوْ تُبْدُوهُ يَعْلَمُهُ اللهُ ان کو کہو کہ خواہ تم چھپاؤ جو تمہارے سینوں میں ہے یا اس کو ظاہر کرو اللہ اسے جانتا ہے۔وَيَعْلَمُ مَا فِي السّمواتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ اور اللہ تو اسے بھی جانتا ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے وَاللهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرُ اور اللہ ہر چیز پر خوب قدرت رکھتا ہے۔يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَا عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُحْضَرًا جس دن ہر جان جو نیکی بھی اس نے کی ہو گی اسے اپنے سامنے حاضر پائے گی وَمَا عَمِلَتْ مِنْ سُوء اور اس بدی کو بھی جو اس نے کی ا ہو گی تَوَدُّ لَو اَنَّ بَيْنَهَا وَ بَيْنَ آمَدًا بَعِيدًا کہ وہ تمنا کرے گی کہ کاش اس کے اور اس کی بدی کے درمیان بہت دور کا فاصلہ ہو تا وَ يُحَذِّرُكُمُ اللهُ نَفْسَہ اور اللہ تمہیں اپنے آپ سے خبر دار کرتا ہے وَاللهُ رَسُوفُ بِالْعِبَادِ حالا نکہ اللہ بندوں سے بہت مہربانی سے پیش آنے والا ہے۔ان دو آیات میں اس لطیف مضمون کو بیان فرمایا ہے کہ صرف اللہ سے ڈرو، نہ عیسائی طاقتوں سے ڈرنے کی ضرورت ہے ، نہ ان سے ڈر کر مسلمانوں کے مفاد کے خلاف اور مسلمانوں کو چھوڑ کر ان عیسائی طاقتوں سے دوستیاں کرنے کی ضرورت ہے۔