365 دن (حصہ سوم)

by Other Authors

Page 4 of 200

365 دن (حصہ سوم) — Page 4

درس القرآن درس القرآن نمبر 157 کل اور پرسوں کے درس میں یہ ذکر چل رہا تھا کہ حقوق انسانی کے تحفظ کے لئے بعض صورتوں میں جنگ کرنا مضر نہیں بلکہ فائدہ مند ہے اور اگر مخالفین حرمت والے مہینہ اور مسجد حرام سے ناجائز فائدہ اٹھا کر تم پر جارحانہ حملہ آور ہوں تو تمہیں جوابی کاروائی کی اجازت ہے کیونکہ وَالْفِتْنَةُ أَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ کیونکہ محض ایک آدھ قتل سے ایسا فتنہ فساد جو قتل کے سلسلہ پر منتج ہوتا ہے بڑا جرم ہے اور یہ بھی وضاحت فرماتا ہے کہ جارحیت و جنگ کا آغاز تو تمہاری طرف سے نہیں ہے، فرماتا ہے وَلَا يَزَالُونَ يُقَاتِلُونَكُمْ کہ یہ لوگ تو تم سے لڑتے چلے جائیں گے (کہاں ہیں وہ عیسائی مناد جو اسلام پر جارحانہ حملے کا الزام لگاتے ہیں) حَتَّی يَرُدُّوكُمْ عَنْ دِينِكُمْ اِنِ اسْتَطَاعُوا اگر ان کو طاقت ہو کہ تمہیں مرتد کر دیں۔وَمَنْ يَرْتَدِدُ مِنْكُمْ عَنْ دِينِهِ فَيَمُتُ وَهُوَ كَافِرُ فَأُولَبِكَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَ أُولَبِكَ أَصْحَبُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَلِدُونَ (البقرة:218) کہ تم میں سے جو بھی اپنے دین سے مرتد ہو جائے اور پھر کفر کی حالت میں اس پر موت آجائے تو وہ یادرکھے کہ ایسے لوگوں کے اعمال اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اکارت جائیں گے اور ایسے لوگ دوزخ کی آگ میں پڑنے والے ہیں اور وہ اس میں دیر تک رہیں گے۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں:۔فرماتا ہے کہ کفار تم سے ہمیشہ لڑتے رہیں گے تاکہ اگر ان کو طاقت ہو تو تم کو اپنے دین سے مر تذکر دیں۔یعنی گو تمہارا مر تذکر دینا ان کی طاقت سے باہر ہے مگر کفار کی غرض تم سے لڑنے کی یہی ہے کہ اگر ان کا بس چلے تو تمہیں مرتد کر دیں چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ کفار اپنے بد ارادوں میں تو خد اتعالیٰ کے فضل سے ناکام رہے اور مسلمانوں پر فتح نہ پاسکے مگر اگاؤ گا آدمی جوان کے قبضہ میں آگیا انہوں نے اپنی طرف سے اس کو مرتد کرنے کی پوری پوری کوشش کی۔چنانچہ بلال۔ابو جندل اور یا سر کی مثالیں اس امر پر کافی سے زیادہ روشنی ڈالتی ہیں۔انہی جبر امر تذکرنے کی کوششوں کے متعلق فرماتا ہے کہ وَالْفِتْنَةُ أَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ قتل اور لڑائی کی نسبت دین کی وجہ سے کسی کو دکھ میں ڈالنا بہت زیادہ خطر ناک گناہ ہے۔“ ( تفسیر کبیر جلد دوم صفحه 476 مطبوعہ ربوہ) یعنی: اذیت کے باوجود یہ ایمان پر قائم رہے۔