365 دن (حصہ سوم) — Page 75
درس القرآن درس القرآن نمبر 216 75 اسلام و عیسائیت کی کش مکش کے ذکر میں یہ سوال بھی اٹھتا تھا کہ اگر اسلام سچا ہے اور موجودہ عیسائیت اصل حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کی عیسائیت کو چھوڑ چکی ہے تو جو کامیابی ظاہر اس کو ہو رہی ہے اس کی کیا وجہ ہے ، فرماتا ہے۔زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوتِ مِنَ النِّسَاءِ وَالْبَنِينَ وَالْقَنَاطِيرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ النَّهَب وَالْفِضَّةِ وَالْخَيْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَالْأَنْعَامِ وَالْحَرْثِ ذَلِكَ مَتَاعُ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَاللَّهُ عِندَهُ حُسْنُ الْمَابِ (آل عمران:15) فرماتا ہے، عیسائیت کی یہ کامیابیاں اس کے عقائد کی صداقت اور مضبوط عقلی اور روحانی دلائل کی بناء پر نہیں بلکہ اس کی رنگ برنگی عیاشیوں اور دولت کے ڈھیروں کی وجہ سے ہے، حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں:۔اب بتاتا ہے کہ عیسائیت اپنے مذہبی اعتقادات کی بناء پر لوگوں کو اپنی طرف مائل نہیں کر سکے گی۔بلکہ اس کے پاس سب سے بڑا حربہ یہ ہو گا کہ وہ کہیں عورتوں کے ذریعہ ، کہیں بچوں کے ذریعہ ، کہیں مال و دولت کے لالچ کے ذریعہ ، کہیں اعلی درجہ کے مناصب کے ذریعہ ، کہیں زراعت کے سامانوں کے ذریعہ ، اور کہیں بڑے بڑے مربعوں اور زمینوں کے ذریعہ لوگوں کو اپنی طرف کھینچے گی۔اور وہ لوگ جن کے دلوں میں دنیا کی محبت ہو گی وہ ان کی طرف چلے جائیں گے۔حقیقت یہ ہے کہ بچے مذہب سے انسان کو برگشتہ کرنے والی یہی چیزیں ہوتی ہیں۔بسا اوقات انسان پر حق کھل جاتا ہے مگر وہ ڈرتا ہے کہ اگر میں نے سچائی کو قبول کیا تو میرا خاندان میر ا مخالف ہو جائے گا، میری دولت مجھ سے چھن جائے گی، میر اعہدہ مجھ سے لے لیا جائے گا، میری زمین اور جائیداد سے مجھے بے دخل کر دیا جائے گا اور میں بے سر و سامان رہ جاؤں گا۔یہ تصور ایک ایسا بھیانک نقشہ اس کے سامنے کھینچتا ہے کہ وہ سچائی کو سمجھتے ہوئے بھی اسے قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہوتا۔