365 دن (حصہ سوم) — Page 46
درس القرآن 46 س القرآن نمبر 192 يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُبْطِلُوا صَدَقَتِكُمْ بِالْمَن وَالْأَذَى كَالَّذِي يُنْفِقُ مَالَهُ رِئَاءَ النَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ صَفْوَان عَلَيْهِ تَرَابُ فَأَصَابَهُ وَابِلٌ فَتَرَكَهُ صَلْدًا لَا يَقْدِرُونَ عَلَى شَيْءٍ مِّمَّا كَسَبُوا وَاللهُ لا يَهْدِى الْقَوْمَ الْكَفِرِينَ وَمَثَلُ الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ وَتَثْبِيتًا مِنْ اَنْفُسِهِمْ كَمَثَلِ جَنَّةِ بِرَبُوَةٍ أَصَابَهَا وَابِلٌ فَاتَتْ أكُلَهَا ضِعْفَيْنِ فَإِنْ لَّمْ يُصِبُهَا وَابِلٌ فَطَلُّ وَاللهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرُ (البقرة : 265 ،266) تزکیہ نفس اور جماعت کے لئے مالی قربانی کا نظام غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے اس لئے مالی قربانی کے بارہ میں ہدایات کا بیان جاری ہے۔آج کی دو آیات میں سے پہلی آیت میں مالی قربانی کو نقصان پہنچانے والی چیز کو ایک تشبیہ کے ذریعہ واضح کیا گیا ہے اور مالی قربانی کی برکت کو دوسری آیت میں تشبیہ کے ذریعہ واضح کیا گیا ہے۔پہلی آیت میں فرماتا ہے یا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو لَا تُبْطِلُوا صدقتِكُم تم اپنی مالی قربانیوں کو ضائع نہ کرو بِالمَن احسان جتانے اور تکبر کرتے ہوئے اپنی قربانی کا اظہار کرنے کے ذریعہ والا ذی اور یا زبان کے ذریعے دکھ دینے یا جسمانی دکھ دینے کے پر ذریعے باطل نہ کرو، ضائع نہ کرو۔یعنی تمہاری مالی قربانیوں کی بنیاد صدق پر ہونی چاہیئے۔كَالَّذِي يُنْفِقُ مَالَهُ رِئَاءَ النَّاسِ اس شخص کی طرح جو اپنا مال لوگوں کے دکھاوے کے لئے خرچ کرتا ہے وَلَا يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ اور اللہ اور آخری دن پر ایمان نہیں رکھتا فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ صَفْوَان کیونکہ اس کی حالت اس چٹان کی حالت کے مشابہہ ہے عَلَيْهِ تُرَاب جس کچھ مٹی ہو فَاَصَابَهُ وَابِل اور اس پر تیز بارش ہو فَتَرَكَهُ صَلدًا اور وہ اس مٹی کو دھو کر اسے پھر صاف چٹان بنا دے لَا يَقْدِرُونَ عَلَى شَيْءٍ مِّمَّا كَسَبُوا یہ لوگ ایسے ہیں کہ جو کچھ کماتے ہیں اس کا کچھ حصہ بھی ان کے ہاتھ نہیں آتا وَاللهُ لا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَفِرِينَ اور اللہ اس قسم کے کافروں کو کامیابی کی راہ نہیں دکھاتا۔اس تشبیہ میں بتایا گیا ہے کہ جو چیز نباتات کے بڑھنے اور نشو و نما کا باعث ہے وہی مٹی صاف کر کے نشو و نما میں روک بننے کا بھی ذریعہ بن جاتی ہے۔اس کے مقابل میں دوسری تشبیہ کا ذکر اگلے درس میں ہو گا۔انشاء اللہ