365 دن (حصہ سوم) — Page 149
درس روحانی خزائن درس روحانی خزائن نمبر 86 حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔149 ابتلاء ضروری ہے: ابتلاء ضروری ہے۔جیسے یہ آیت اشارہ کرتی ہے اَحَسِبَ النَّاسُ أَن يُتْرَكُوا أَن يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ ( العنكبوت: 3) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جنہوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے اور استقامت کی ، ان پر فرشتے اترتے ہیں۔مفسروں کی غلطی ہے کہ فرشتوں کا اترنا نزع میں ہے۔یہ غلط ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ دل کو صاف کرتے ہیں اور نجاست اور گندگی سے ، جو اللہ سے دور رکھتی ہے ، اپنے نفس کو دور رکھتے ہیں۔ان میں سلسلہ الہام کے لئے ایک مناسبت پیدا ہو جاتی ہے۔سلسلہ الہام شروع ہو جاتا ہے پھر متقی کی شان میں ایک اور جگہ فرمایا اَلَا اِنَّ اَوْلِيَاءَ اللهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (یونس : 63) یعنی جو اللہ کے ولی ہیں ان کو کوئی غم نہیں جس کا خدا متکفل ہو اس کو کوئی تکلیف نہیں۔کوئی مقابلہ کرنے والا ضر ر نہیں دے سکتا اگر خداولی ہو جائے۔پھر فرمایا وَ ابْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُم تُوعَدُونَ ( حم السجدة :31) یعنی تم اس جنت کے لئے خوش ہو جس کا تم کو وعدہ ہے۔قرآن کی تعلیم سے پایا جاتا ہے کہ انسان کے لئے دو جنت ہیں۔جو شخص خدا سے پیار کرتا ہے کیا وہ ایک جلنے والی زندگی میں رہ سکتا ہے؟ جب اس جگہ ایک حاکم کا دوست دنیوی تعلقات میں ایک قسم کی بہشتی زندگی میں ہوتا ہے، تو کیوں نہ ان کے لئے دروازہ جنت کا کھلے جو اللہ کے دوست ہیں، اگر چہ دنیا پر از تکلیف و مصائب ہے ، لیکن کسی کو کیا خبر کہ وہ کیسی لذت اٹھاتے ہیں ؟ اگر ان کو رنج ہو تو آدھ گھنٹہ تکلیف اٹھانا بھی مشکل ہے ، حالانکہ وہ تو تمام عمر تکلیف میں رہتے ہیں۔ایک زمانہ کی سلطنت ان کو دے کر ان کو اپنے کام سے روکا جاوے تو کب کسی کی سنتے ہیں ؟ اس طرح خواہ مصیبت کے پہاڑ ٹوٹ پڑیں، وہ اپنے ارادہ کو نہیں چھوڑتے۔“ ( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 11،10 مطبوعہ ربوہ) مشکل الفاظ اور ان کے معانی نزع جان کنی کی حالت متکفل کفیل، ذمہ دار، ضامن