365 دن (حصہ سوم) — Page 147
درس روحانی خزائن 147 درس روحانی خزائن نمبر 85 حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیان فرماتے ہیں:۔اپنی جماعت کے لئے بعض نصائح : اے میری جماعت خدا تعالیٰ آپ لوگوں کے ساتھ ہو وہ قادر کریم آپ لوگوں کو سفر آخرت کے لئے ایسا طیار کرے جیسا کہ آنحضرت صلی ال ایلم کے اصحاب طیار کئے گئے تھے۔خوب یاد رکھو کہ دنیا کچھ چیز نہیں ہے۔لعنتی ہے وہ زندگی جو محض دنیا کے لئے ہے اور بد قسمت ہے وہ جس کا تمام ہم و غم دنیا کے لئے ہے ایسا انسان اگر میری جماعت میں ہے تو وہ عبث طور پر میری جماعت میں اپنے تئیں داخل کرتا ہے کیونکہ وہ اس خشک ٹہنی کی طرح ہے جو پھل نہیں لائے گی۔الله سة اے سعادتمند لو گو! تم زور کے ساتھ اس تعلیم میں داخل ہو جو تمہاری نجات کے لئے مجھے دی گئی ہے۔تم خدا کو واحد لا شریک سمجھو اور اُس کے ساتھ کسی چیز کو شریک مت کرونہ آسمان میں سے نہ زمین میں سے خدا اسباب کے استعمال سے تمہیں منع نہیں کرتا لیکن جو شخص خدا کو چھوڑ کر اسباب پر ہی بھروسہ کرتا ہے وہ مشرک ہے۔قدیم سے خدا کہتا چلا آیا ہے کہ پاک دل بننے کے سوا نجات نہیں۔سو تم پاک دل بن جاؤ اور نفسانی کینوں اور عقوں سے الگ ہو جاؤ۔انسان کے نفس امارہ میں کئی قسم کی پلیدیاں ہوتی ہیں مگر سب سے زیادہ تکبر کی پلیدی ہے۔اگر تکبر نہ ہوتا تو کوئی شخص کافر نہ رہتا سو تم دل کے مسکین بن جاؤ۔عام طور پر بنی نوع کی ہمدردی کرو جبکہ تم انہیں بہشت دلانے کے لئے وعظ کرتے ہو۔سو یہ وعظ تمہارا کب صحیح ہو سکتا ہے اگر تم اس چند روزہ دنیا میں ان کی بدخواہی کرو خدا تعالیٰ کے فرائض کو دلی خوف سے بجا لاؤ کہ تم اُن سے پوچھے جاؤ گے۔نمازوں میں بہت دُعا کرو کہ تا خدا تمہیں اپنی طرف کھینچے اور تمہارے دلوں کو صاف کرے کیونکہ انسان کمزور ہے ہر ایک بدی جو دور ہوتی ہے وہ خدا تعالیٰ کی قوت سے دور ہوتی ہے اور جب تک انسان خدا سے قوت نہ پاوے کسی بدی کے دُور کرنے پر قادر نہیں ہو سکتا۔اسلام صرف یہ نہیں ہے کہ رسم کے طور پر اپنے تئیں کلمہ گو کہلاؤ بلکہ اسلام حقیقت یہ ہے کہ تمہاری روحیں خدا تعالیٰ کے آستانہ پر گر جائیں۔اور خدا اور اس کے احکام