365 دن (حصہ سوم) — Page 144
درس روحانی خزائن درس روحانی خزائن نمبر 83 حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیان فرماتے ہیں:۔144 زندگانی کی خواہش گناہ کی جڑ ہے: زندگانی کی زیادہ خواہش اکثر گناہوں کی اور کمزوریوں کی جڑھ ہے۔ہمارے دوستوں کو لازم ہے کہ مالک حقیقی کی رضا میں اوقات عزیز بسر کرنے کی ہر وقت کوشش کریں۔حاصل یہی ہے۔ورنہ آج چل دینے اور مثلاً پچاس سال کے بعد کوچ کرنے میں کیا فرق ہے۔جو آج چاند و سورج ہے وہی اس دن ہو گا۔جو انسان نافع اور اس کے دین کا خادم ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ خود بخود اس کی عمر اور صحت میں برکت ڈال دیتا ہے۔اور شر الناس کی کچھ پرواہ نہیں کرتا۔سو آپ سب کام ہر حال خدا میں ہو کر کریں۔خود اللہ تعالیٰ آپ کو محفوظ رکھے گا۔تیس سال سے زائد عرصہ گزرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے صاف لفظوں میں فرمایا کہ تیری عمر اسی برس یا دو چار اوپر یا نیچے ہو گی۔اس میں بھی بھید ہے کہ جو کام میرے سپرد ہے۔اس قدر مدت میں تمام کرنا منظور ہو گا۔لہذا مجھے اپنی بیماری میں کبھی موت کا غم نہیں ہوا۔مجھے خوب یاد ہے کہ جن درختوں کے نیچے میں چھ سات سالہ عمر میں کھیلا کر تا تھا۔آج بعینہ بعض درخت اسی طرح ہرے بھرے سرسبز کھڑے ہیں، لیکن میں اپنے حال کو کچھ اور کا اور ہی دیکھتا ہوں۔تم بھی اس کو تصور کر سکتے ہو۔یہ طعن و تشنیع ہمعصروں کی غنیمت سمجھیں۔اس میں اصلاح نفس متصور ہے۔جب یہ نہ ہوں گے تو پھر خدمت مولیٰ کریم اور ہد یہ قابل حضرت عزت کا کیا ہو گا؟ آپ بیماری کا فکر کرتے ہیں۔تمہارے پہلے بھائی یعنی صحابہ تو بیعت ہی جان قربان کرنے کی کرتے تھے اور ہر حال منتظر رہتے تھے کہ کب وہ وقت آتا ہے کہ اپنے مالک حقیقی کے راستے میں فداہوں۔غرض ہر حال کیا صحت اور کیا بیماری۔آپ مولیٰ کریم سے معاملہ ٹھیک رکھیں۔سب کام اچھے ہو جائیں گے۔“ نافع مشکل الفاظ اور ان کے معانی ( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 439،438 مطبوعہ ربوہ) فائدہ مند ، فائدہ پہنچانے والا شر الناس لوگوں میں سے بدترین طعن و و تشنیع گالی گلوچ، لعن طعن متصور جس کا خیال یا تصور کیا جائے