365 دن (حصہ سوم) — Page 8
درس القرآن 8 درس القرآن نمبر 160 وَلَا تَنكِحُوا الْمُشْرِ كتِ حَتَّى يُؤْمِنَ وَلَامَةٌ مُؤْمِنَةٌ خَيْرٌ مِنْ مُّشْرِكَةٍ وَ لَوْ أَعْجَبَتْكُمْ وَلَا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِينَ حَتَّى يُؤْمِنُواَوَ لَعَبْدُ مُؤْمِـ مِنُوا وَ لَعَبْدُ مُؤْمِنْ خَيْرٌ مِنْ مُّشْرِكٍ وَلَوْ أَعْجَبَكُمْ أُولَبِكَ يَدْعُونَ إِلَى النَّارِ وَاللَّهُ يَدْعُو إِلَى الْجَنَّةِ وَالْمَغْفِرَةِ بِإِذْنِهِ وَيُبَيِّنُ التِهِ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ (البقرة : 222) جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے سورۃ البقرۃ کے اس حصہ میں حقوق انسانی کا بیان ہے اور حقوق انسانی میں عائلی تعلقات بہت ہی اہم مقام رکھتے ہیں اس لئے پوری تفصیل کے ساتھ یہ مضمون اب یہاں شروع ہوتا ہے۔اس ضمن میں پہلی بات یہ مد نظر رکھنی چاہیے کہ عائلی تعلقات کے قیام کے لئے یہ پہلی آیت ہے مگر یہ وَلَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكَتِ حَتَّى يُؤْمِنَ سے شروع ہوتی ہے یعنی مشرکہ عورتوں سے شادی نہ کرو یہاں تک کہ وہ ایمان لے آئیں۔بظاہر نظر یہ نکاح و شادی کے مسائل کے بیان میں Abrupt بیان معلوم ہوتا ہے مگر حقیقتا اس میں بڑی حکمت ہے عائلی تعلقات کے قیام اور ان کی حفاظت اور ان کے بارہ میں احتیاط کے سارے قرآن مجید میں بیان کے باوجود اس پہلی آیت میں نکاح کرنے کا حکم نہیں تا کہ بعض مذاہب کے بگاڑ کی طرح یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ یہ ایک Sacrament (سیکر امنٹ) ہے جس کا قطع کرنا انسان کے لئے جائز نہیں۔نکاح کے تقدس اور احترام اور اس کو توڑنے کی حد درجہ ناپسندیدگی کے باوجود قرآن مجید کی رو سے نکاح ایک Civil Contract جو بامر مجبوری منقطع بھی ہو سکتا ہے۔دوسری بات یہ بتائی گئی ہے کہ نکاح میں پسندیدگی اور ناپسندیدگی کا بنیادی محرک ایمان ہونا چاہیے نہ کہ سوشل Status فرماتا ہے وَلَامَةٌ مُؤْمِنَةٌ خَيْرٌ مِنْ مُشْرِكَةٍ وَلَوْ أَعْجَبَتْكُمْ لَه ایمان رکھنے والی غیر آزاد عورت مشرکہ عورت سے بہت بہتر ہے خواہ خاندانی لحاظ سے، شکل و صورت کے لحاظ سے، تعلیم کے لحاظ سے مال کے لحاظ سے تمہیں مشرکہ عورت کتنی بھی اچھی لگے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ اس حکم کے ایک پہلو کی تشریح میں فرماتے ہیں:۔” یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ شرعی اصطلاح میں مشرک سے مراد صرف وہ لوگ ہیں جن کی کوئی شریعت نہ ہو۔اہل کتاب اس حکم میں شامل نہیں ہیں۔“ ( تفسیر کبیر جلد دوم صفحہ 500 مطبوعہ ربوہ) ( اس آیت کا مضمون جاری ہے)