365 دن (حصہ سوم)

by Other Authors

Page 89 of 200

365 دن (حصہ سوم) — Page 89

درس القرآن 89 درس القرآن نمبر 228 609 قُلْ إِن كُنتُم تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ وَيَغْفِرُ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ (آل عمران: 32) اسلام اور عیسائیت کے تقابلی مطالعہ میں اس آیت میں عیسائیت کے خلاف اور اسلام کے حق میں گویاز بر دست دلیل دی گئی ہے کہ :۔ان کو کہہ دے کہ اگر تم خدا تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو آؤ میرے پیچھے پیچھے چلنا اختیار کرو یعنی میرے طریق پر جو اسلام کی اعلیٰ حقیقت ہے قدم مار و تب خد اتعالیٰ تم سے بھی پیار کرے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا۔“ آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 165) یہ اسلام کی صداقت اور موجودہ بگڑی ہوئی عیسائیت کی تردید کی ایک گویا سب سے زیادہ مضبوط ، قوی اور زبر دست دلیل ہے کیونکہ دونوں مذاہب اس بات کا دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ خدا کی طرف سے ہیں اور اعلان عام ہے کہ میری پیروی کرو تم خدا کے محبوب بن جاؤ گئے۔اب اگر عیسائیت سچا مذ ہب ہے تو اس میں ایسے لوگ ہونے چاہئیں کہ یسوع کی پیروی سے وہ خدا باپ کے محبوب بن گئے ہیں۔کیا ایک عیسائی بھی ہے جو علی الاعلان یہ دعویٰ کرتا ہو کہ میں یسوع کی پیروی سے خدا کا محبوب بن گیا ہوں اور اس کا یہ ثبوت ہے۔مگر مسلمانوں میں ہر زمانہ میں ایسے لوگ ہوتے رہے اور اس زمانہ میں بھی ہیں۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔”سو میں نے محض خدا کے فضل سے نہ اپنے کسی ہنر سے اِس نعمت سے کامل حصہ پایا ہے جو مجھ سے پہلے نبیوں اور رسولوں اور خدا کے برگزیدوں کو دی گئی تھی۔اور میرے لئے اس نعمت کا پانا ممکن نہ تھا اگر میں اپنے سید و مولیٰ فخر الانبیاء اور خیر الوریٰ حضرت محمد مصطفے صلی اللی کیم کے راہوں کی پیروی نہ کرتا۔سو میں نے جو کچھ پایا۔اُس پیروی سے پایا اور میں اپنے سچے اور کامل علم سے جانتا ہوں کہ کوئی انسان بجز پیروی اُس نبی صلی ا یکم کے خدا تک نہیں