365 دن (حصہ سوم)

by Other Authors

Page 82 of 200

365 دن (حصہ سوم) — Page 82

درس القرآن 82 درس القرآن نمبر 222 الم ترَ إِلَى الَّذِينَ أوتُوا نَصِيبًا مِنَ الْكِتَبِ يُدْعَونَ إلى كتب اللهِ لِيَحْكُم بَيْنَهُم : يَتَوَلَّى فَرِيقٌ مِّنْهُمْ وَهُمْ مُعْرِضُونَ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ إِلَّا أَيَا مَا مَعْدُودَتِ وَغَرَّهُمْ فِي دِينِهِمْ مَّا كَانُوا يَفْتَرُونَ (آل عمران : 24،25) اہل کتاب سے اسلامی کش مکش کا ایک بہت ہی اہم پہلو دونوں مذاہب کی کتابیں ہیں ان کا تقابلی مطالعہ ہی اسلام کی صداقت کا قطعی ثبوت ہے، فرماتا ہے ذرا غور تو کرو کہ وہ لوگ جن کو اللہ کی کتاب کا ایک حصہ دیا گیا جیسا کہ قرآن شریف وضاحت سے فرماتا ہے نہ صرف بنی اسرائیل کی دونوں شاخوں کو کتاب دی گئی بلکہ دنیا کی کوئی امت نہیں جس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے نذیر نہ بھیجا گیا ہو فرمایا اَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ أوتُوا نَصِيبًا مِنَ الْكِتَب کیا تم نے نہیں دیکھا کہ وہ لوگ جن کو کتاب اللہ کا صرف ایک حصہ دیا گیا تھا یدُ عَونَ إِلى كِتَبِ اللهِ اب جو اللہ کی کامل کتاب آگئی اور ان کو اس کی طرف بلایا جاتا ہے لیحْكُم بَيْنَهُمْ کہ وہ ان کے درمیان اختلافات کا فیصلہ کرے ثُمَّ يَتَوَلَّى فَرِيقٌ مِنْهُمْ تو ان میں سے گروہ (کے گروہ) منہ پھیر لیتے ورور ہیں وَهُمْ مُعْرِضُونَ اور وہ اعراض کرتے ہیں اور اس کی وجہ ان کی خود تراشیدہ باتیں ہیں۔ذلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا یہ اس طرح ہے کہ انہوں نے کہا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ إِلَّا ايَّامًا معْدُودَت کہ ہمیں آگ صرف گنتی کے چند دن چھوٹے گی وَغَدَّهُمْ فِي دِينِهِمْ اور ان کے دین کے بارہ میں ان کو فریب میں ڈالا ہوا ہے مَا كَانُوا يَفْتَرُونَ ان باتوں نے جو وہ خود تراشتے ہیں۔قرآن مجید کے مقابلہ میں ان کی کتابوں کا نا مکمل ہونا اتنی واضح اور نمایاں بات تھی جس کا وہ انکار نہیں کر سکتے تھے مثلاً یہودی آخرت کا عقیدہ ایک آدھ فرقہ کے علاوہ مسلم عقیدہ تھا مگر پرانے عہد نامہ میں اس کا کہیں ذکر نہیں ملتا۔عیسائیوں میں تثلیث کا عقیدہ اور شریعت منسوخ ہونے کا تصور خوب رائج ہے مگر سارے نئے عہد نامہ میں حضرت مسیح کے اقوال میں ان دونوں عقیدوں کی طرف اشارہ بھی نہیں۔