365 دن (حصہ سوم) — Page 69
درس القرآن 69 درس القرآن نمبر 212 هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَبَ مِنْهُ أَيتَ مُحْكَمْتَ هُنَّ أُمُّ الْكِتَبِ وَأَخَرُ مُتَشْبِهت فَلَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَة إِلا الله والرسخُونَ فِي الْعِلْمِ يَقُولُونَ أَمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِنْ عِنْدِ رَبَّنَا وَ مَا يَذَكَر (آل عمران:8) إلا أُولُوا الْأَلْبَابِ جیسا کہ ذکر آچکا ہے آل عمران میں زیادہ تر اسلام اور مسلمانوں کی اس کش مکش کا ذکر ہے جو عیسائیت کے مقابلہ میں تھی یہودیت کے مقابلہ کی طرح عیسائیت کا اعتقاد و عمل کے لحاظ سے مقابلہ اسلام کی تاریخ کا بلکہ دنیا کی اس دور کی تاریخ کے اہم ترین واقعات میں سے ہے اس لئے اس کا تفصیلی ذکر قرآن شریف میں ہے اس آیت میں اس تکنیک کا بھی ذکر ہے جو عیسائی دنیا اسلام کے خلاف استعمال کرتی ہے۔فرماتا ہے هُوَ الَّذِى اَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَبَ مِنْهُ أنتَ مُحْكَمْتُ هُنَّ أُمُّ الْكِتب وہی ہے جس نے تجھ پر کتاب اتاری اس میں سے محکم آیات بھی ہیں وہ کتاب کی ماں ہیں اور کچھ دوسری متشابہ آیات ہیں پس وہ لوگ جن کے دلوں میں بھی ہے وہ فتنہ چاہتے ہوئے اور اس کی تاویل کی خاطر اس میں اس کی پیروی کرتے ہیں جو باہم متشابہہ ہے حالا نکہ اللہ کے سوا اور ان کے سوا جو علم میں پختہ ہیں کوئی اس کی تاویل نہیں جانتا۔وہ کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے سب ہمارے رب کی طرف سے ہے اور عقل مندوں کے سوا کوئی نصیحت نہیں پکڑتا۔اس آیت میں اشارہ ہے کہ عیسائی بعض قرآنی آیات کے غلط معانی کے ذریعہ بھی یسوع کی الوہیت کا استنباط کرتے ہیں ( امریکہ کے ایک چرچ میں ایک پادری نے یہ دعویٰ کیا کہ نعوذ باللہ قرآن شریف یسوع کا مقام ہمارے نبی صلی علی کریم سے بڑا بتاتا ہے) بلکہ اپنی کتابوں کی پیشگوئیوں کو بھی جو واضح طور پر ہمارے نبی صلی الی کم پر چسپاں ہوتی ہیں مثلاً استثناء 18/18 میں وہ نبی کی پیشگوئی وہ یسوع پر چسپاں کرتے ہیں۔