365 دن (حصہ سوم) — Page 52
درس القرآن 52 درس القرآن نمبر 198 لَيْسَ عَلَيْكَ هُدبُهُمْ وَلَكِنَّ اللهَ يَهْدِى مَنْ يَشَاءُ وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ خَيْرٍ فَلِانْفُسِكُمْ وَمَا تُنْفِقُونَ إِلَّا ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللهِ وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ خَيْرٍ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ وَأَنْتُمْ لَا تُظْلَمُونَ (البقرة:273) قرآن شریف کا طریق ہے کہ ایک مضمون بیان کرتے ہوئے جب کوئی ایسی بات ہو جس پر مخالف اعتراض کر سکتا ہو تو وہ اس کا جواب بیان فرما دیتا ہے۔یہاں تزکیہ یعنی قومی اور جماعتی ترقی اور نشوو نما کی غرض سے مالی قربانی کی خاص تاکید ہے اس پر یہ اعتراض ہو سکتا تھا کہ یہ مالی قربانیاں لوگوں کو مسلمان بنانے کے لئے ہیں۔اس آیت میں اس سوال کا مضبوطی سے جواب دیا لَيْسَ عَلَيْكَ هذا هم که مخالفین کو ہدایت دے دینا تمہارا کام نہیں وَلكِنَّ اللهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے ہدایت پر لے آتا ہے۔اس لئے یہ اعتراض تو بالکل بے معنی ہے یہ مالی قربانیاں تو مخالفوں کو دے کر مسلمان بنانے کے لئے نہیں بلکہ مومنوں کے روحانی فائدہ کے لئے ہیں۔تم جو خیر بھی، اچھا مال بھی خرچ کرو وہ تمہارے اپنے نفوس کی بھلائی کے لئے ہے اور وَمَا تُنْفِقُونَ إِلَّا ابْتِغَاء وَجْهِ الله اور تمہارا یہ خرچ اگر کسی منفعت کے لئے ہے تو بے معنی ہے۔تمہارا خرچ تو اللہ کی رضامندی کے لئے ہے۔ہاں یہ تمہارے حق میں ضائع نہیں جائیں گی۔وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ خَيْرِ يُوَفَ إِلَيْكُمْ جو اچھا مال بھی تم خرچ کر وہ تمہیں پورا پورا واپس کر دیا جائے گا وَ اَنْتُمْ لَا تُظْلَمُونَ اور تم کسی گھاٹے میں نہیں رہو گے اور دشمن کے ظالمانہ ، جارحانہ حملوں سے بھی محفوظ ہو جاؤ گے۔