365 دن (حصہ سوم)

by Other Authors

Page 45 of 200

365 دن (حصہ سوم) — Page 45

درس القرآن 45 درس القرآن نمبر 191 قَوْل مَعْرُوفٌ وَ مَغْفِرَةٌ خَيْرٌ مِنْ صَدَقَةٍ يَتْبَعُهَا أَذًى وَاللَّهُ غَنِيٌّ حَلِيمٌ (البقرة:264) یعنی اچھی بات کہنا اور قصور معاف کرنا اس صدقہ سے بہتر ہے جس کے پیچھے ایذارسانی شروع ہو جائے اور اللہ بے نیاز اور بردبار ہے۔اس کی تشریح کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود بیان فرماتے ہیں:۔بتایا کہ خدا تعالیٰ کے راستہ میں مال خرچ کرنے کے بعد تمہاری یہ کیفیت نہیں ہونی چاہیئے کہ تم میں تکبر کے خیالات پید اہو جائیں اور تم یہ کہنا شروع کر دو کہ ہم نے تو یہ کچھ دیا تھا، یوں مال قربان کیا تھا، یوں خدمت دین کی تھی کیونکہ ایسا کرنا تمہاری نیکی کو ضائع کر دے گا۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے سورہ حجرات میں اعراب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے يَمْنُونَ عَلَيْكَ أَنْ أَسْلَمُوا اے محمد رسول اللہ (صلی رم) وہ اپنے اسلام قبول کرنے کا بھی تجھ پر احسان جتاتے ہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تو ان لوگوں سے صاف صاف کہہ دے کہ لا تمنوا عَلَى اسلامكم تم مجھ پر اپنے اسلام کا احسان نہ جتاؤ بَلِ اللهُ يَمُنُّ عَلَيْكُمْ أَنْ هَدَيكُمْ لِلْإِيمَانِ (الحجرات : 18) اصل حقیقت تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا تم پر احسان ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کا راہ دکھایا اور ایک بچے مذہب کو قبول کرنے کی توفیق بخشی۔اسی طرح مالی قربانیوں کے بعد دوسروں پر احسان جتانا سخت نادانی ہے کیونکہ اس کے معنے یہ ہیں کہ اس نے خدا کے لئے کام نہیں کیا تھا بلکہ بندوں کو ممنونِ احسان کرنے کے لئے کیا تھا اور یہ چیز اسے ثواب سے محروم کر دیتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی ایک مقام پر اپنی جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا ہے:۔”یہ مت خیال کرو کہ تم کوئی حصہ مال کا دے کر یا کسی اور رنگ سے کوئی خدمت بجالا کر خد اتعالیٰ اور اس کے فرستادہ پر کچھ احسان کرتے ہو بلکہ یہ اس کا احسان ہے کہ تمہیں اس خدمت کے لئے بلاتا ہے۔پس ایسا نہ ہو کہ تم دل میں تکبر کرو اور یا یہ خیال کرو کہ ہم خدمت مالی یا کسی قسم کی خدمت کرتے ہیں۔میں بار بار تمہیں کہتا ہوں کہ خدا تمہاری خدمتوں کا ذرہ محتاج نہیں۔ہاں تم پر یہ اس کا فضل ہے کہ تم کو خدمت کا موقعہ دیتا ہے۔۔۔تبلیغ رسالت جلد دہم صفحہ 56،55) فسیر کبیر جلد دوم صفحہ 607،606 مطبوعہ ربوہ)