365 دن (حصہ سوم)

by Other Authors

Page 42 of 200

365 دن (حصہ سوم) — Page 42

درس القرآن 42 القرآن نمبر 188 اَوْ كَالَّذِي مَرَّ عَلَى قَرْيَةٍ وَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَى عُرُوشِهَا قَالَ أَنَّى يُحْيِ هَذِهِ اللَّهُ بَعْدَ مَوْتِهَا فَأَمَاتَهُ اللهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهُ قَالَ كَمْ لَبِثْتَ قَالَ لَبِثْتُ يَوْمًا أَوْ بَعْضَ يَوْمٍ قَالَ بَلْ لبِثْتَ مِائَةَ عَامٍ فَانْظُرُ إِلى طَعَامِكَ وَشَرَابِكَ لَمْ يَتَسَنَهُ وَانْظُرُ إِلَى حِمَارِكَ وَلِنَجْعَلَكَ آيَةً لِلنَّاسِ وَانْظُرُ إِلَى الْعِظَامِ كَيْفَ نُنْشِزُهَا ثُمَّ نَكَسُوهَا لَحْمًا فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ قَالَ أَعْلَمُ أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرُ (البقرة: 260) اس آیت میں الہی جماعتوں کے تزکیہ اور نشوو نما کی دوسری مثال دی گئی ہے جس میں ایک نہایت کمزور قوم کے جو اب اپنے شہر سے نکال دی گئی تھی، جلاوطن کی گئی تھی کے دوبارہ بحال ہونے کا ذکر ہے۔اس واقعہ کی طرف حز قیل نبی کی کتاب میں واضح اشارہ ہے کہ جب عراقی بادشاہ نبو کد نضر کے حملہ کی وجہ سے پیروشلم مغلوب ہو گیا اور وہ وہاں کی بیشتر آبادی کو قید کر کے جلاوطن کر کے لے گیا تو حضرت حزقیل کا ایک دفعہ اس کے شہر کے پاس سے گزر ہوا اس کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے اَوْ كَالَّذِی مَرَّ عَلَى قَرْيَةٍ اور پھر اس شخص کی مثال پر تم نے غور نہیں کیا جس کا ایک بستی پر گزر ہو ا وَ هِيَ خَاوِيَةٌ عَلَى عُرُوشِهَا جبکہ وہ اپنی چھتوں کے بل گری ہوئی تھی قال آئی يخي هذِهِ اللهُ بَعْدَ مَوْتِھا اس نے کہا اللہ اس کو اس کی موت کے بعد کیسے زندہ کرے گا فَامَاتَهُ اللهُ مِائَةَ عَامِ تو اللہ نے اس کو سو (100) سال تک موت وارد کر دی ثُمَّ بَعَثَہ پھر اسے اٹھایا قَالَ كم لبنت فرمایا تم کتنا عرصہ ٹھہرے رہے ؟ اس نے کہا میں ایک دن یا ایک دن کا کچھ عرصہ ٹھہرا رہا ہوں مگر ( یہ ظاہری حقیقت نہیں کیونکہ ) قَالَ بَلْ لَبِثْتَ مِائَةَ عَامٍ بلکہ تم سو (100) سال ٹھہرے رہے ہو ( کیونکہ آئندہ سو (100) سال کے واقعات ان کو خواب میں دکھا دیئے گئے تھے۔فانظر إلى طَعَامِكَ وَشَرَابِكَ لَمْ يَتَسَنَّهُ مگر تم اپنے کھانے پینے کو دیکھو کہ وہ گلے سڑے نہیں وانظر إلى حِمَارِكَ اور اپنے گدھے کو دیکھو وَ لِنَجْعَلَكَ آيَةً لِلنَّاسِ اور اس لئے کہ ہم تمہیں تمام لوگوں کے لئے ایک نشان بنادیں (اور خواب کے نظارہ کی تفصیل کرتے ہوئے فرمایا) وانظر الى الْعِظَامِ كَيْفَ نُنشِزُھا اور ہڈیوں کی طرف دیکھو کہ ہم کس طرح ان کو اٹھاتے ہیں ثُمَّ نَكَسُوهَا لَحْماً اور انہیں گوشت پہنا دیتے ہیں فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَه پس جب بات اس پر کھل گئی قَالَ أَعْلَمُ أَنَّ اللهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِیر میں سمجھ گیا ہوں کہ اللہ ہر چیز پر جس کو وہ چاہے دائمی قدرت رکھتا ہے۔