365 دن (حصہ سوم) — Page 40
درس القرآن 40 القرآن نمبر 186 - اللهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلمتِ إِلَى النُّورِ وَالَّذِينَ كَفَرُوا اَولِيَهُمُ الطَّاغُوتُ يُخْرِجُونَهُمْ مِنَ النُّوْرِ إِلَى الظلمتِ أُولَبِكَ اَصْحَبُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَلِدُونَ (البقرة:258) تزکیہ کے لئے سب سے بڑا Source تو اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جب تک اس کی ذات سے تعلق نہ ہو تزکیہ خواہ روحانی ہو یا جسمانی حاصل نہیں ہو سکتا، چنانچہ فرماتا ہے اللهُ وَلِيُّ الَّذِينَ امَنُوا الله ان لوگوں کا دوست ہے جو ایمان لائے يُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمتِ إِلَى النُّورِ وہ ان کو اند ھیروں سے نور کی طرف نکالتا ہے وَالَّذِيْنَ كَفَرُوا اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اولیھم الطَّاغُوتُ ان کے دوست حق و انصاف کی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے ہیں يُخْرِجُونَهُم مِنَ النُّورِ إِلَى الظُّلمت وہ ان کو نور سے اندھیروں کی طرف نکالتے ہیں أُولبِكَ اَصْحَبُ النَّارِ هُمْ فيهَا خُلِدُونَ یہی لوگ آگ والے ہیں وہ اس میں لمبا عرصہ رہنے والے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔”خدا مومنوں کا کار ساز ہے ان کو ظلمات سے نور کی طرف نکال رہا ہے۔“ (براہین احمدیہ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 648) پھر فرماتے ہیں:۔”اللہ دوستدار ہے ان لوگوں کا جو ایمان لائے اور ان کو اندھیرے جنگ مقدس روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 87) سے روشنی کی طرف نکالتا ہے۔“ پھر فرماتے ہیں:۔”خدا سے پورے طور پر ڈرنا بجز یقین کے کبھی ممکن نہیں۔تقویٰ کی باریک راہوں پر قدم مارنا اور اپنے عمل کو ریا کاری کی ملونی سے پاک کر دینا بجز یقین کے کبھی ممکن نہیں۔ایسا ہی دنیا کی دولت اور حشمت اور اس کی کیمیا پر لعنت بھیجنا اور بادشاہوں کے قرب سے بے پرواہ ہو جانا اور صرف خدا کو اپنا ایک خزانہ سمجھنا بجز یقین کے ہر گز ممکن نہیں۔اب بتلاؤ اے مسلمان کہلانے والو کہ ظلمات شک سے نور یقین کی طرف تم کیونکر پہنچ سکتے ہو۔یقین کا ذریعہ تو خدا تعالیٰ کا کلام ہے جو يُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمتِ إِلَى النُّورِ کا مصداق ہے۔“ ( نزول المسیح روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 470)