365 دن (حصہ سوم) — Page 22
درس القرآن 22 القرآن نمبر 170 فإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِما أَنْ يَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيمَا حُدُودَ اللهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ (البقرة:231) فرماتا ہے اگر وہ مرد اس عورت کو تیسری طلاق دے دے تو اس کے لئے اس کے بعد پھر اس مرد کے نکاح میں آنا جائز نہیں ہو گا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ شادی و طلاق جیسے اہم معاملہ کو کھیل بنالینا ہر گز درست نہیں۔ہاں حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَیرہ اگر وہ عورت کسی اور مرد سے شادی کرتی ہے فَانْ طَلَّقَهَا اور اگر وہ مرد بھی اس کو با قاعدہ طور پر طلاق دیتا ہے فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِما أَن يَتَرَاجَعَا پھر ان دونوں پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ ایک دوسرے کی طرف رجوع کریں إن ظَنَّا أَن يُقِیمَا حُدُودَ اللهِ اگر وہ یہ گمان رکھتے ہوں کہ وہ اللہ کی مقرر کردہ حدود کو قائم رکھ سکیں گے۔مراد یہ ہے کہ امید کی جاسکتی ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی کے اس اتار چڑھاؤ سے کچھ سبق حاصل کیا ہو گا وتِلْكَ حُدُودُ اللهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ اور یہ اللہ کی مقرر کردہ حدود ہیں جنہیں وہ لوگوں کی خاطر کھول کھول کر بیان کر رہا ہے جو علم رکھتے ہیں۔وَإِذَا طَلَقْتُمُ النِّسَاء اور جب تم عورتوں کو طلاق دو فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ اور وہ اپنی مقررہ مدت کی آخری حد کو پہنچ جائیں فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفِ تو انہیں مناسب طور پر روک لو آؤ سَرحُوهُنَّ بِمَعْرُوف یا انہیں مناسب طور پر رخصت کر دو وَلَا تُمْسِكُوهُنَّ صِرَارًا لِتَعْتَدُوا اور انہیں تکلیف دینے کے لئے اس نیت سے مت رو کو کہ پھر ان پر زیادتی کرو وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَقَد ظَلَمَ نَفْسَہ اور جو شخص ایسا کرے تو سمجھو کہ اس نے اپنی ہی جان پر ظلم کیا ہے وَلَا تَتَّخِذُوا آیت اللهِ هُزُوا اور تم اللہ کے احکام کو تمسخر نہ بناؤ وَ اذْكُرُوا نِعْمَتَ اللهِ عَلَيْكُمْ اور تم پر جو اللہ کا انعام ہوا ہے اسے یادرکھو ركهو وَمَا أَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِنَ الْكِتَبِ وَالْحِكْمَةِ يَعِظُكُم بِہ اور اسے بھی یادرکھو جو اس نے تم پر کتاب اور حکمت نازل کی ہے۔وَاتَّقُوا اللہ اور کا تقویٰ اختیار کرو وَ اعْلَمُوا أَنَّ اللهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ اور جان لو کہ اللہ ہر ایک بات کو خوب جانتا ہے۔(البقرة:232)