365 دن (حصہ سوم)

by Other Authors

Page 174 of 200

365 دن (حصہ سوم) — Page 174

درس روحانی خزائن درس روحانی خزائن نمبر 103 حضرت بانی سلسلہ احمدیہ علی السلام بیان کرتے ہیں:۔دو 174 ” بیعت کی غرض: ہر ایک شخص جو میرے ہاتھ پر بیعت کرتا ہے اس کو سمجھ لینا چاہیئے کہ اس کی بیعت کی کیا غرض ہے ؟ کیا وہ دنیا کے لیے بیعت کرتا ہے یا اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے۔بہت سے ایسے بد قسمت انسان ہوتے ہیں کہ ان کی بیعت کی غایت اور مقصود صرف دنیا ہوتی ، ورنہ بیعت سے ان کے اندر کوئی تبدیلی پیدا نہیں ہوتی اور وہ حقیقی یقین اور معرفت کا نور جو حقیقی بیعت کے نتائج اور ثمرات ہیں ان میں پیدا نہیں ہوتا ان کے اعمال میں کوئی خوبی اور صفائی نہیں آتی نیکیوں میں ترقی نہیں کرتے گناہوں سے بچتے نہیں ایسے لوگوں کو جو دنیا کو ہی اپنا اصل مقصود ٹھہراتے ہیں یا درکھنا چاہیئے کہ دنیا روزے چند آخر کار با خداوند یہ چند روزہ دنیا تو ہر حال میں گزر جاوے گی خواہ تنگی میں گذرے خواہ فراخی میں۔مگر آخرت کا معاملہ بڑا سخت معاملہ ہے وہ ہمیشہ کا مقام ہے اور اس کا انقطاع نہیں ہے پس اگر اس مقام میں وہ اسی حالت میں گیا کہ خدا تعالیٰ سے اس نے صفائی کر لی تھی اور اللہ تعالٰی کا خوف اس کے دل پر مستولی تھا اور وہ معصیت سے تو بہ کر کے ہر ایک گناہ سے جس کو اللہ تعالیٰ نے گناہ کر کے پکارا ہے بچتا رہا تو خدا تعالیٰ کا فضل اس کی دستگیری کرے گا اور وہ اس مقام پر ہو گا۔کہ خدا اس سے راضی ہو گا۔اور وہ اپنے رب سے راضی ہو گا۔اور اگر ایسا نہیں کیا بلکہ لا پرواہی کے ساتھ اپنی زندگی بسر کی ہے تو پھر اس کا انجام خطر ناک ہے اس لیے بیعت کرتے وقت یہ فیصلہ کر لینا چاہیئے کہ بیعت کی کیا غرض ہے اور اس سے کیا فائدہ حاصل ہو گا اگر محض دنیا کی خاطر ہے تو بے فائدہ ہے لیکن اگر دین کے لیے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ہے تو ایسی بیعت مبارک اور اپنی اصل غرض اور مقصد کو ساتھ رکھنے والی ہے جس سے ان فوائد اور منافع کی پوری امید کی جاتی ہے جو سچی بیعت سے حاصل ہوتے ہیں۔“ 66 ( ملفوظات جلد سوم صفحہ 432،431 مطبوعہ ربوہ) ترجمہ: دنیا چند روزہ ہے بالآخر خدا کے پاس حاضر ہو جانا ہے۔مشکل الفاظ اور ان کے معانی مستولی غالب، چھا جانے والا دستگیری معین و مددگار