365 دن (حصہ سوم) — Page 159
درس روحانی خزائن 159 درس روحانی خزائن نمبر 92 حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیان فرماتے ہیں:۔اسلامی پردہ آجکل پر دے پر حملے کیے جاتے ہیں۔لیکن یہ لوگ نہیں جانتے کہ اسلامی پردہ سے مراد زنداں نہیں، بلکہ ایک قسم کی روک ہے کہ غیر مرد اور عورت ایک دوسرے کو نہ دیکھ سکے۔جب پر دہ ہو گا، ٹھو کر سے بچیں گے۔ایک منصف مزاج کہہ سکتا ہے کہ ایسے لوگوں میں جہاں غیر مرد و عورت اکٹھے بلا تامل اور بے محابا مل سکیں، سیر میں کریں۔کیونکر جذبات نفس سے اضطرارا ٹھو کر نہ کھائیں گے۔بسا اوقات سننے اور دیکھنے میں آیا ہے کہ ایسی قومیں غیر مرد اور عورت کے ایک مکان میں تنہار ہنے کو حالا نکہ دروازہ بھی بند ہو کوئی عیب نہیں سمجھتیں۔یہ گویا تہذیب ہے ، انہی بد نتائج کو روکنے کے لئے شارع اسلام نے وہ باتیں کرنے کی اجازت ہی نہ دیں۔جو کسی کی ٹھوکر کا باعث ہوں۔ایسے موقع پر یہ کہہ دیا کہ جہاں اس طرح غیر محرم مرد و عورت ہر دو جمع ہوں۔تیسرا ان میں شیطان ہوتا ہے۔ان ناپاک نتائج پر غور کرو۔جو یورپ اس خلیج الرسن تعلیم سے بھگت رہا ہے۔بعض جگہ بالکل قابل شرم طوائفانہ زندگی بسر کی جارہی ہے۔یہ انہی تعلیمات کا نتیجہ ہے اگر کسی چیز کو خیانت سے بچانا چاہتے ہو تو حفاظت کرو۔لیکن اگر حفاظت نہ کرو اور یہ سمجھ رکھو کہ بھلے مانس لوگ ہیں، تو یاد رکھو کہ ضرور وہ چیز تباہ ہو گی۔اسلامی تعلیم کیسی پاکیزہ تعلیم ہے کہ جس نے مرد و عورت کو الگ رکھ کر ٹھو کر سے بچایا اور انسان کی زندگی حرام اور تلخ نہیں کی جس کے باعث یورپ نے آئے دن کی خانہ جنگیاں اور خود کشیاں دیکھیں۔بعض شریف عورتوں کا طوائفانہ زندگی بسر کرنا ایک عملی نتیجہ اس اجازت کا ہے جو غیر عورت کو دیکھنے کے لئے دی گئی۔" ( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 21، 22 مطبوعہ ربوہ) مشکل الفاظ اور ان کے معانی زنداں جیل بے محابا کھلے عام ، بلاروک ٹوک شارع اسلام شریعت اسلام لانے والے مراد حضرت محمدعلی ملی یک خلیج الرسن ہر قسم کی پابندی سے آزاد