365 دن (حصہ سوم)

by Other Authors

Page 138 of 200

365 دن (حصہ سوم) — Page 138

138 درس حدیث نمبر 117 عَنْ أَبِي بَكْرَةَ عَنِ النَّبِي يا الله أَنَّهُ كَانَ إِذَا جَاءَهُ أَمْرُ سَرُوْرٍ أَوْ يُسَرُّ بِهِ خَرَّ سَاجِدًا شَاكِرًا لِلَّهِ تَعَالَى ( ابو داؤد کتاب الجہاد باب في سجود الشكر 2774) انسان کو اپنی روزانہ زندگی میں غم ہوتا ہے، خوشی بھی ہوتی ہے، دکھ اور بیماری اور تکلیف کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے، صحت اور آرام اور سہولت بھی ہوتی ہے۔قرآن شریف میں مومن کو یہ سبق دیا گیا ہے کہ جو لوگ مصیبت کے وقت صبر سے کام لیتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے محبوب بن جاتے ہیں اور جو اللہ تعالیٰ کے احسان کے وقت شکر کرتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے احسانات کا دروازہ مزید کھولتے ہیں۔دنیا میں شاید ہی کوئی آدمی ہو جس نے کوئی غم اور دکھ اپنی زندگی میں نہ دیکھا ہو اور شاید ہی کوئی آدمی ہو جس نے آرام اور سہولت اور خوشی کی گھڑیاں نہ دیکھی ہوں۔مومن کا رد عمل سب سے زیادہ حکیمانہ ہوتا ہے، وہ غم کے وقت صبر کا نمونہ دکھاتا ہے اور خوشی کے وقت شکر کا اسوہ دکھاتا ہے۔اس بارہ میں سب سے عمدہ اور لطیف نمونہ ہمارے نبی صلی علیکم کا ہے آپ نے عزیزوں کی وفات کا غم بھی دیکھا، بیماری سے بھی دکھ اٹھایا، وطن سے بھی بے وطن ہوئے، دشمنوں کے حملوں میں آپ شدید زخمی بھی ہوئے مگر کبھی آپ نے بے صبری کا مظاہرہ نہیں کیا اور آپ کو عظیم الشان فتوحات بھی ہوئیں۔سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ نے آپ پر اپنی محبت اور شفقت کا کمال درجہ اظہار فرمایا۔آپؐ کو سب انسانوں کا سردار بنایا، جبت میں سب سے پہلے جانے کی آپؐ کو بشارت دی، انسانیت پر اترنے والی سب سے بلند پایہ وحی آپ پر نازل فرمائی مگر ہر انعام پر، ہر احسان پر آپ نے یہی فرمایا کہ لا فخر کوئی غرور نہیں۔جو حدیث آپ کے بارہ میں آج ہم نے پڑھی ہے اس میں یہ مضمون ہے کہ رسول لله على لعلیم کے پاس جب کوئی ایسی بات آتی جو خوشی کا باعث ہوتی تو آپ بے ساختہ شکر کرتے ہوئے سجدہ شکر میں گر جاتے اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ وَسَلِّمْ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيْدٌ