365 دن (حصہ سوم) — Page 137
137 درس حدیث نمبر 116 حضرت عبد اللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی ال یکم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا کہ يَارَسُوْلَ اللهِ كَمْ نَعْفُوا عَنِ الْخَادَمِ کہ ہم نوکر کو کتنی دفعہ معاف کریں حضور صلی ال کیک خاموش رہے اس شخص نے دوبارہ سوال کیا حضور صلی ال کلم پھر بھی خاموش رہے جب اس شخص نے تیسری دفعہ یہ سوال دہرایا تو آپ صلی ﷺ نے فرمایا: أُعْفُ عَنْهُ فِي كُلِّ يَوْمٍ سَبْعِينَ مَرَّةً (ابو داؤد کتاب الادب باب في حق المملوك 5164) حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی نیلم کی دس (10) سال تک خدمت کی۔آپ نے کبھی کسی کام کے لئے جو میں نے کیا آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ تم نے ایسا کیوں کیا اور کبھی کسی کام پر جو میں نے نہیں کیا آپ نے کبھی نہیں فرمایا کہ تم نے ایسا کیوں نہیں کیا۔(بخاری کتاب الأدب باب حسن الخلق والسخاء وما يكره من البخل6038) یہ ہے نمونہ ہمارے نبی صلی الہ یکم کا جو دنیا بھر کے سب سے زیادہ مصروف ترین وجو د تھے جن کے کاموں کے متعلق اللہ تعالیٰ گواہی دیتا ہے کہ اِنَّ لَكَ فِي النَّهَارِ سَبْحًا طَوِيلًا (المزمل: 8) کہ آپ رات کے وقت دو تہائی رات تک تہجد پڑھا کریں کیونکہ آپ کو دن کو کام ہی کام ہے، مصروفیت ہی مصروفیت ہے اور پھر ایسے وجود کا نمونہ ہے جن کے کام ساری دنیا کے کاموں سے زیادہ اہم ، زیادہ ضروری اور انسانیت کے فائدہ کے لحاظ سے سب سے زیادہ بابرکت تھے۔ایک خادم جو آپ کے ساتھ سفر میں ہمرکاب تھے اپنا تجربہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں آپ کا خادم تھا مگر میں نہیں کہہ سکتا کہ آپ میری زیادہ خدمت کرتے تھے یا میں آپ کی زیادہ خدمت کر تا تھا۔ہر شخص کی طرح نوکر سے بھی غلطی ہو سکتی ہے بعض گھروں میں معمولی سی غلطی پر نوکر کو سخت ست کہا جاتا ہے ، سزا دی جاتی ہے۔آج کی حدیث میں حضرت عبد اللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ اس شخص نے پوچھا حضور ہم اپنے نوکر کو کتنی دفعہ معاف کریں؟ پہلے تو حضور صلی ا م خاموش رہے، دوسری دفعہ بھی خاموش رہے، تیسری دفعہ پوچھنے پر فرمایا دن میں ستر دفعہ معاف کرو اور یہ صرف حضور صلی کلم کا ارشاد نہیں بلکہ عملی نمونہ بھی ہے۔اللھم صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ وَسَلَّمْ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ