365 دن (حصہ سوم)

by Other Authors

Page 10 of 200

365 دن (حصہ سوم) — Page 10

درس القرآن 10 س القرآن نمبر 162 وَيَسْتَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ فَإِذَا تَطَهَّرْنَ فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللهُ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ (البقرة:223) بندوں کے حقوق کے مضمون کے سلسلہ میں عائلی حقوق کا مضمون جاری ہے، فرماتا ہے وہ تجھ سے حیض کی حالت کے بارہ میں سوال کرتے ہیں تم کہدو کہ یہ ایک تکلیف کی حالت ہے پس حیض کے دنوں میں عورتوں سے الگ رہو اور ان سے ازدواجی تعلقات قائم نہ کرو یہاں تک کہ وہ پاک صاف ہو جائیں پھر جب وہ پاک صاف ہو جائیں تو ان کے پاس اسی طریق سے جاؤ جیسا کہ اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے۔یقینا اللہ کثرت سے توبہ کرنے والوں سے محبت کرتا ہے اور پاک صاف رہنے والوں سے بھی محبت کرتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔یعنی حیض کے دنوں میں عورتوں سے کنارہ کرو اور ان کے نزدیک مت جاؤ یعنی صحبت کے ارادہ سے جب تک کہ وہ پاک ہو لیں۔اگر ایسی صفائی سے کنارہ کشی کا بیان وید میں بھی ہو تو کوئی صاحب پیش کریں لیکن ان آیات سے یہ مراد نہیں کہ خاوند کو بغیر ارادہ صحبت کے اپنی عورت کو ہاتھ لگانا بھی حرام ہے یہ تو حماقت اور بیوقوفی ہو گی کہ بات کو اس قدر دور کھینچا جائے کہ تمدن کے ضرورات میں بھی حرج واقع ہو۔“ ( آریہ دھرم روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 49) اس آیت میں اس ٹکڑے فَإِذَا تَطَهَّرْنَ فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ اَمَرَكُمُ اللهُ كه : تمہاری عورتیں پاک صاف ہو جائیں تو ان سے اللہ کے حکم کے مطابق ازدواجی تعلقات قائم کر سکتے ہو ، اس کی تشریح میں حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں:۔”اس سے بھی معلوم ہو گیا کہ اس بارہ میں اللہ تعالیٰ نے کوئی حکم دیا ہوا ہے اور وہ یہی ہے جو فَالُنَ بَاشِرُوهُنَّ وَابْتَغُوا مَا كَتَبَ اللهُ لَكُمْ میں بیان کیا گیا ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے اولاد حاصل کرنے کا جو طبعی طریق مقرر کر رکھا ہے اس کے مطابق عمل کرو۔“ ( تفسیر کبیر جلد دوم صفحه 502 مطبوعه ربوہ)